چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے اجلاس کا انعقاد

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا ،جس میں ایم ڈی کیٹ امتحان 2025 کے انعقاد اور تشخیص کا جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر چیئرمین کمیٹی کی ان کی انتھک کوششوں …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا ،جس میں ایم ڈی کیٹ امتحان 2025 کے انعقاد اور تشخیص کا جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر چیئرمین کمیٹی کی ان کی انتھک کوششوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جن کی قیادت میں ایم ڈی کیٹ اصلاحات کا معاملہ ایجنڈے پر برقرار رکھا گیا اور ایم ڈی کیٹ 2024 کے دوران سامنے آنے والی خرابیوں کے بعد تسلسل کے ساتھ فالو اپ اجلاس منعقد کئے گئے اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔

قائمہ کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ کمیٹی کی مسلسل نگرانی اور پی ایم ڈی سی کی پرعزم کوششوں کے نتیجے میں ایم ڈی کیٹ 2025 کا انعقاد بین الاقوامی امتحانی اصولوں کے مطابق منصفانہ، شفاف اور معیاری طریقے سے ہوا۔ اراکین نے کہا کہ کسی بھی صوبے سے کوئی بڑی شکایت یا پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات نہیں ملیں۔

پی ایم ڈی سی نے صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور پیرامیڈیکل عملے کے ساتہ گہرے تعاون سے ملک بھر میں امتحان کے بلا تعطل اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنایا۔ قائمہ کمیٹی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششیں رنگ لائیں جس سے امتحانی عمل کی شفافیت اور بہتر گورننس کا عکس نظر آیا۔

بلوچستان حکومت اور بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا کہ انہوں نے صوبے میں سنگین چیلنجز کے باوجود ایم ڈی کیٹ کا مثالی طور پر کامیاب انعقاد یقینی بنایا۔ کمیٹی نے وائس چانسلر کی اس بات پر بھی تعریف کی کہ انہوں نے قلیل نوٹس پر ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کی، جو شفافیت اور تعاون کے ان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

کمیٹی نے صوبائی سطح پر کئے گئے شفاف اور موثر انتظامات کو تسلیم کیا اور شناختی جعلسازی (امپرسنیشن) کے واقعات کی شناخت اور ان کے تدارک میں دکھائی گئی چوکسی کو سراہا۔ اراکین نے دیگر صوبوں اور ان کی یونیورسٹیوں کے مثبت کردار کو بھی تسلیم کیا، جنہوں نے مناسب تعاون، بہتر لاجسٹکس اور نتائج کی بروقت تشخیص کو یقینی بنایا۔ کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کی گزشتہ سفارشات کی بنیاد پر، پہلی بار پی ایم ڈی سی نے ڈومیسائل پر مبنی امتحانی نظام نافذ کیا اور تمام صوبوں میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لئے ایک معیاری سوالات کا پول تیار کیا۔

اراکین نے پی ایم ڈی سی اور یونیورسٹیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اس سال متعارف کرائے گئے بروقت مواصلات اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو بھی سراہا۔ ایم ڈی کیٹ 2025 کے انعقاد میں واضح بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے مستقبل کے امتحانات میں شفافیت اور مساوات کو بڑھانے کے لئے مزید سفارشات پیش کیں اور زور دیا کہ امتحانی سافٹ ویئر کو ڈیٹا کی غلطیوں اور نقل سے بچنے کے لئے مضبوط بنایا جائے، اور تمام صوبوں میں یکساں دستاویزی ضروریات اپنائی جائیں تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے۔

کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ ان طلبہ کے لئے ایک طریقہ کار فوری تیار کرے جنہوں نے پچھلے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں 90 فیصد نمبر حاصل کئے تھے لیکن اس سال امتحان نہیں دے سکے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ ایک واضح پالیسی، جس میں متعلقہ نمبروں کی ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہو سکتی ہے، کو 2-3 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے ورنہ کمیٹی طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لئے سخت کارروائی کرے گی۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ میرٹ پر مبنی داخلے کو یقینی بنانے کے لئے بورڈ امتحان کے نمبروں کے مطابق ویٹیج کا جائزہ لیا جائے۔

مزید برآں کمیٹی نے زور دیا کہ پی ایم ڈی سی اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے درمیان مشترکہ مشاورت سے او اور اے لیول کے طلبہ کو یکساں اور تشخیص کے معیار میں درپیش تفاوت کے خاتمے کی ضرورت ہے۔قائمہ کمیٹی برائے صحت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایم ڈی کیٹ 2025 کا کامیاب انعقاد باہمی تعاون پر مبنی اسلوب اور مؤثر پارلیمانی نگرانی کا مظہر ہے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے اعادہ کیا کہ کمیٹی پیشرفت کی نگرانی جاری رکھے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل کے امتحانات مزید شفافیت، یکسانیت اور شمولیت کے ساتھ منعقد ہوں۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ سوبیا اسلم سومرو، میر اعجاز حسین جاکھرانی، سبین غوری، زہرا ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر نگہت شکیل خان، ڈاکٹر درشن، عالیہ کامران، شائستہ خان اور فرخ خان نے شرکت کی۔

پی ایم ڈی سی کے صدر، ایم ڈی کیٹ منعقد کرنے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور وزارت قومی صحت کے سینئر افسران کے علاوہ تمام صوبوں کے صوبائی محکمہ صحت کے نمائندوں نے بھی ذاتی اور ورچوئل طریقے سے شرکت کی۔

مزید خبریں