چینی حکومت نے کرونا وائرس کی روک تھام و تدارک کیلئے ہر سطح پر ترجیحی اقدامات کئے ہیں، پاکستان چین کا حقیقی دوست ہے، اس مشکل گھڑی میں چینی عوام کو پاکستان کی بھرپور حمایت حاصل ہے، چین عنقریب کامیاب ہو گا، چینی حکومت تمام غیر ملکیوں کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنا رہی ہے، چینی سفیر یاو¿ جنگ کا بیان

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) پاکستان میں چین کے سفیر یاو¿ جنگ نے کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے ہی چین میں کرونا وائرس نمونیہ کی وباءدفعتاً پھوٹ پڑی، چینی حکومت نے وباءکی روک تھام و تدارک کیلئے ہر سطح پر ترجیحی اقدامات کئے، پاکستان چین کا ایک حقیقی دوست ہے، خاص طور پر اس مشکل گھڑی میں چینی عوام کو اس وباءسے نمٹنے میں …

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) پاکستان میں چین کے سفیر یاو¿ جنگ نے کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے ہی چین میں کرونا وائرس نمونیہ کی وباءدفعتاً پھوٹ پڑی، چینی حکومت نے وباءکی روک تھام و تدارک کیلئے ہر سطح پر ترجیحی اقدامات کئے، پاکستان چین کا ایک حقیقی دوست ہے، خاص طور پر اس مشکل گھڑی میں چینی عوام کو اس وباءسے نمٹنے میں پاکستان کی بھرپور حمایت حاصل ہے،چین عنقریب کامیاب ہو گا۔ پیر کو چینی سفارتخانہ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں چینی سفیر نے بتایا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ژی جن پنگ نے چینی نئے سال کے پہلے ہی دن سنٹرل کمیٹی کی پولیٹیکل بیورو کی قائمہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ وبائی امراض کے تدارک اور روک تھام کے کام کو تیزی سے نافذ العمل کر دیا اور سی پی سی کی مرکزی سطح پر وباءکے خلاف فوری ردعمل کے ہراول گروپ کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ہوبی کے شہر ووہان کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے تمام 31 صوبوں، خود مختار خطوں اور بلدیات نے چین بھر میں، مرکز سے مقامی سطح تک، صحت عامہ کی مشکلات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، وباءکی روک تھام و تدارک کیلئے جامع، کثیر السطحی اور مربوط نظام کے نفاذ کی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے اعلیٰ پائے کے رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وباءپر قابو پانے کیلئے دیہی و شہری علاقوں کیلئے بلاامتیاز جامع اور غیر معمولی اہمیت کے حامل، الگ رکھنے کے حفاظتی اقدامات اختیار کئے گئے۔ مر کزی حکومت نے وباءکی روک تھام و تدارک کیلئے خصوصی رقوم مختص کیں، ملک بھر سے طبی آلات سے لیس طبی عملہ مدد کیلئے ووہان شہر پہنچا۔ چینی عوام نے حکومت کے اقدامات کو پوری طرح سمجھا اور اس میں تعاون کیا اور اس مشکل وقت پر ہمت اور شاندار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ دریں اثناءچینی حکومت عوام کو وسیع النظر، شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں باخبرکرتی رہی اور انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو رہنمائی کےلئے چین مدعو کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا اور تبصرہ کیا کہ چینی حکومت کے اقدامات عالمی ادارہ صحت کی ضروریات سے بالاتر ہیں اور ”چین در حقیقت وبائی امراض کے ضمن میں ردعمل کے نئے معیار مرتب کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتیرس نے کہا کہ چین کی کوششوں کو اقوام متحدہ نے پوری طرح سے تسلیم کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیفا نے بھی وباءسے نمٹنے کےلئے چین کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چین کی معیشت ”لچکدار ہے“۔ 67 ممالک کے رہنماو¿ں کے ساتھ ساتھ صدر اور وزیراعظم پاکستان سمیت 14 بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ کو اظہار یکجہتی اور حمایت کے مکتوب ارسال کئے۔ بہت ساری غیر ملکی حکومتوں اور دوستوں نے چین کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے فوری طور پر حفاظتی لباس ، میڈیکل ماسک اور حفاظتی چشمے فراہم کئے۔ چینی عوام خیر سگالی کے ان جذبات کی دلی طور پر مشکور و ممنون ہے۔ آرٹیکل میں چینی سفیر کا کہنا ہے کہ چینی حکومت تمام غیر ملکیوں کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنا رہی ہے کیونکہ ہم ان کے ساتھ اپنے ہی شہریوں جیسا برتاو¿ روا رکھے ہوئے ہیں اور چین میں غیر ملکی این سی پی مریضوں کے علاج پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ بیجنگ میں تمام سفارت خانوں سے مسلسل رابطہ میں ہے اور غیر ملکی شہریوں کی صحت ، حقوق اور مفادات کے تحفظ کےلئے بہت کچھ کیا جا رہاہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے اپنی انگریزی ویب سائٹ پر ایک خصوصی سیکشن ”فائٹنگ 2019ءاین سی او وی“ شروع کیا ہے جس میں بروقت تازہ ترین اور سرکاری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن نے چائنا سی ڈی سی کے ذریعہ جاری کردہ این سی پی کے عوامی روک تھام کو چھ زبانوں میں ترجمہ کیا ہے جوآن لائن دستیاب ہے۔ صوبہ ہوبی نے وہاں کے غیر ملکی شہریوں کےلئے وباءکی روک تھام اور کنٹرول کے لئے 24 گھنٹے کی ہاٹ لائن قائم کی ہے۔ ابھی تک چین میں این سی پی کے 19 غیر ملکی مریض ہیں، ان میں سے 2 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ چینی سفیر کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان چین کا ایک حقیقی دوست ہے ، خاص طور پر اس مشکل گھڑی میں چینی عوام کو اس وبا سے نمٹنے میں پاکستان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے چینی رہنماو¿ں کو مکتوب لکھے اور اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی حکومت ، چینی عوام بہت جلد اس چیلنج پر قابو پالیں گے۔ چینی اسٹیٹ کونسلر وانگ یی کے ساتھ حالیہ فون کال میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی عوام چینیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ پاکستان میں معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے تمام دوستوں نے چین کےلئے اپنے اعتماد اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ، اپنے دوستانہ ہاتھ ہم تک بڑھائے ہیں۔ جس چیز نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ یہ تھا کہ بہت سارے پاکستانی افراد جن میں چین میں زیر تعلیم طلباءبھی شامل تھے، نے فوری طور پرچھوٹی ویڈیو بنائیں۔ انہوں نے ”چین جاو¿“ اور ”ووہاں جاو¿“ کے عنوان سے نظمیں لکھیں جو چٹان کی مانند مضبوط پاک چین دوستی کا مظہر ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبہ ھوبی اور ووہان میں مقیم طلبہ کے ساتھ اپنے خصوصی احترام کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ یقیناً آپ مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ پاکستانی اور چینی دونوں حکومتیں آپ کی دیکھ بھال کر رہی ہیں، آپ کی صحت اور حفاظت کا خیال رکھے ہوئے ہیں۔ بہترین طبی مشورہ یہ ہے کہ آپ جہاں بھی ہوں، پر اعتماد ہوں اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ چینی طبی اداروں میں آپ کے خدشات دور کرنے کی صلاحیت اوراستعداد بدرجہ اتم موجود ہے۔ پورا چین آپ ساتھ ہے۔ آپ ہمارے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مانند ہیں اور آپ کو بھر پور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ ان دنوں پاکستانی اور چینی شہریوں جو حال ہی میں پاکستان واپس آئے ہیں ، ان کے لئے صحت سے متعلق سنگاری اور خود تنہائی کے سخت اقدامات اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان ذمہ دار ہے اور چین بھی۔ یاﺅ جنگ نے کہا کہ یہ قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جس نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ انہوں نے ایک بار لکھا تھا کہ آپ اپنی تعداد کم ہونے پر فکر نہ کریں، اس کمی کو آپ نے ہمت، استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمت، صبر و تحمل اور عزم صمیم ہیں۔ جو زندگی کو زندگی بنا دیتے ہیں۔ اندھیرے بالآخر چھٹنے اور اجالا نمودار ہونے کو ہے اور اس چیلنج کے خلاف عنقریب ہم نے فتح سے ہمکنار ھونا ہے۔