چینی ماہرین کی سفارشات پر مبنی پی اے آرسی ریفارم پلان پر جامع عمل درآمد کی ہدایت

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چینی وزارتِ زراعت و دیہی امور (ایم اے آر اے) اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کی سفارشات کی روشنی میں پی …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چینی وزارتِ زراعت و دیہی امور (ایم اے آر اے) اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کی سفارشات کی روشنی میں پی اے آر سی کی تنظیمِ نو اور اس کے اسٹرٹیجک ریفارم و کوآپریشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین پارک نے چینی وفد کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی رپورٹ پیش کی جوپی اے آر سی ، نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی ) اور اس سے منسلک گیارہ تحقیقی اداروں کی کارکردگی، ڈھانچے اور استعداد کا جامع تجزیہ پر مبنی تھی۔ اس مشترکہ مطالعے کا مقصد پاکستان کے زرعی تحقیقاتی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تجویز کرنا تھا۔چینی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پارک کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن میں فنڈز کی کمی، پرانے اور ناکافی تحقیقی آلات، تحقیقی نتائج کے تجارتی استعمال میں کمزوری، اور ناقص مراعات کے باعث افرادی قوت کے انحطاط جیسے مسائل شامل ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو پائیدار مالیاتی نظام، مؤثر کارکردگی کے جائزے، تحقیق و کاشتکار کے مابین مضبوط روابط، اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر مبنی ہو۔اصلاحاتی منصوبہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ تحقیق کو قومی ترجیحات جیسے خوراک کے تحفظ، موسمیاتی لچک اور معاشی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، اور اس مقصد کے لیے ایک نیشنل ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی روڈ میپ تشکیل دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ٹرانسفر یونٹس ،نیشنل ایگری کلچرل ٹیکنالوجی ٹرانسفر سینٹر اور علاقائی ڈیمانسٹریشن حبز کے قیام سے تحقیق کے عملی اطلاق کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ جدید سائنسی طریقے براہِ راست کاشتکاروں تک پہنچ سکیں۔منصوبہ چین اور پاکستان کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون کے فروغ پر بھی مبنی ہے جس کے تحت مشترکہ تحقیقی لیبارٹریز، تربیتی پروگرامز اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ تعاون خاص طور پر موسمیاتی تغیر کے خلاف مضبوط فصلوں کی تیاری، پانی کے مؤثر استعمال، کیڑوں اور بیماریوں کے انسداد، لائیو اسٹاک کی بہتری، اور جدید زرعی مشینری کی مقامی تیاری جیسے شعبوں پر مرکوز ہوگا۔

اس موقع پر رانا تنویر حسین نے چینی وزارتِ زراعت و دیہی امور اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی جانب سے پاکستان کے زرعی تحقیقی نظام کے لیے اصلاحاتی سفارشات تیار کرنے پر شکریہ ادا کیا اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان پارک کو ایک جدید، خودمختار اور اختراعی تحقیقاتی ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جو قومی خوراک کے تحفظ اور زرعی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایم اے آر اے ۔سی اے اے ایس کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے گی تاکہ تحقیق کے نتائج کاشتکاروں تک پہنچ سکیں اور زرعی شعبے میں جدت، قدر میں اضافہ اور پیداوار میں بہتری لائی جا سکے۔

رانا تنویر حسین نے ہدایت کی کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پی اے آر سی ، اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی عمل درآمد کمیٹی قائم کی جائے جو اصلاحاتی منصوبے کے نفاذ کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائنز اور احتسابی نظام تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ پارک کی تنظیمِ نو محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ قومی ترجیح ہے جو زرعی پیداوار میں اضافہ، خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین کے تعاون اور پاکستانی سائنسدانوں کی محنت سےپی اے آر سی کو ایک عالمی معیار کے تحقیقی ادارے میں تبدیل کیا جائے گا جو پاکستان کی زرعی خوشحالی اور پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

 

مزید خبریں