چینی کرنسی دو برس میں زر مبادلہ کی تیسری بڑی کرنسی بن جائے گی

بیجنگ ۔ 28 جولائی (اے پی پی) چین کی قومی کرنسی (یو آن) بہت جلد دنیا کی تیسری بڑی کرنسی میں تبدیل ہوجائے گی۔ چین کے مالیاتی ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ملک کی پائیدار ترقی اور کرنسی کی قیمت میں آنے والے استحکام کے پیش نظر2016ءسے2018ءکے درمیان یوآن بتدریج عالمی لین دین میں تیسری بڑی کرنسی کے طور پر اپنی جگہ بنالے گا۔اس وقت ڈالراور یورو کے بعد …

بیجنگ ۔ 28 جولائی (اے پی پی) چین کی قومی کرنسی (یو آن) بہت جلد دنیا کی تیسری بڑی کرنسی میں تبدیل ہوجائے گی۔ چین کے مالیاتی ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ملک کی پائیدار ترقی اور کرنسی کی قیمت میں آنے والے استحکام کے پیش نظر2016ءسے2018ءکے درمیان یوآن بتدریج عالمی لین دین میں تیسری بڑی کرنسی کے طور پر اپنی جگہ بنالے گا۔اس وقت ڈالراور یورو کے بعد جاپان کا ین اور برطانیہ کا پونڈ عالمی کرنسی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے تاہم آئندہ دو سال کے دوران توقع ہے کہ چین کا یوآن عالمی ادائیگیوں میں دونوں سے آگے نکل جائے گا اور ڈالر اور یورو کے بعد دنیا کی تیسری بڑی کرنسی کی حیثیت سے اپنی پوزیشن مضبوط کرلے گا۔چین کے مرکزی شماریاتی ادارے کے مطابق 2015 کے دوران چین کی اقتصادی ترقی کی شرح ساڑھے 6 فی صد سے زیادہ تھی جبکہ رواں سال کی پہلی شش ماہی میں 6 اعشاریہ 7 فی صد رہی۔عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے گزشتہ سال نومبرمیں باضابطہ طورپرچین کی کرنسی یوآن کو اپنے زرمبادلہ کے پیکیج کا حصہ بنا لیا تھا۔

Leave a Reply