چینی کمپنیوں سے 42-40 ملین ڈالر کے عملی معاہدے، پاکستان سرمایہ کاری پر مبنی معاشی بحالی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، قیصر احمد شیخ

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 40 سے 42 ملین ڈالر مالیت کے عملی سرمایہ کاری معاہدوں کے بعد پاکستان سرمایہ کاری پر مبنی معاشی بحالی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

فیصل آباد ۔ 19 جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 40 سے 42 ملین ڈالر مالیت کے عملی سرمایہ کاری معاہدوں کے بعد پاکستان سرمایہ کاری پر مبنی معاشی بحالی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، سیاسی استحکام اور قومی معاشی اتفاق رائے کے ذریعے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صحت کے شعبے کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استحکام حاصل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چنیوٹ کے نواحی علاقے میں 146 بھکڑی چوک میں منعقدہ ایک فری میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 100 چینی سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس نوعیت کے بیشتر پروگرام مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود رہتے تھے۔ تاہم اس مرتبہ کانفرنس میں تقریباً 40 سے 42 ملین ڈالر مالیت کے عملی سرمایہ کاری معاہدے طے پائے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ان معاہدوں کے تحت چینی کمپنیاں پاکستان میں ادویات کی تیاری کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گی جس سے نئی صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی فارماسیوٹیکل صنعت مزید مستحکم ہوگی جبکہ اس منصوبے کے مثبت اثرات مجموعی قومی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم کے پیش کردہ ”چارٹر آف اکانومی“ کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 27 برسوں کے دوران مختلف حکومتوں کو سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا جس کے باعث معاشی منصوبہ بندی اور ملکی ترقی کا عمل متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک سیاسی ہم آہنگی اور پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنا چاہتی ہے، تاہم اس کے لیے قومی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے اور یہ اضافہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں سے ہی ممکن ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدن کا تقریباً چار فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح تقریباً ایک فیصد ہے جس کے باعث عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

انہوں نے فری میڈیکل کیمپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ایسے فلاحی اقدامات انتہائی ضروری ہیں جہاں ہسپتالوں، تشخیصی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی محدود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیمپ میں اب تک تقریباً 500 مریضوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد افراد نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ طبی ٹیسٹ کروائے۔ وفاقی وزیر نے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف اور منتظمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مفت علاج، طبی معائنے، تشخیصی ٹیسٹ اور ادویات کی فراہمی دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو تقریباً 3.7 فیصد رہی ہے، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس رفتار میں مزید اضافہ بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک خصوصاً چین اور بھارت نے سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے ذریعے اپنی معیشتوں کو مضبوط بنایا ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی قومی اتفاق رائے، صنعتی توسیع اور سرمایہ کاری کے فروغ کو ترجیح دے کر عوام کا معیارزندگی بلند کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صحت و تعلیم کے شعبوں کی بہتری اور عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اپنی کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔