چین سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد پاکستان اربوں ڈالر کی برآمدات بڑھا سکتا ہے، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ چین سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ (ایف ٹی اے) طے پا جانے کے بعد پاکستان اربوں ڈالر کی برآمدات بڑھا سکتا ہے، جن 313 اشیاءو مصنوعات کو چین کی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ملی ہے چین 64 ارب ڈالر ان کی درآمدات پر خرچ کرتا …

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ چین سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ (ایف ٹی اے) طے پا جانے کے بعد پاکستان اربوں ڈالر کی برآمدات بڑھا سکتا ہے، جن 313 اشیاءو مصنوعات کو چین کی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ملی ہے چین 64 ارب ڈالر ان کی درآمدات پر خرچ کرتا ہے، ہمارے پاس اپنی برآمدات بڑھانے کا بہترین موقع ہے، چین کے ساتھ ایف ٹی اے کے دوران مقامی صنعت کے تحفظ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی اتفاق ہوا ہے، چین نے معاہدے کے تحت 313 اشیاءکو ڈیوٹی فری رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سینئر اینکر پرسنز اور صحافیوں سے خصوصی بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے جن 313 اشیاءپر ڈیوٹی فری رسائی دی ہے چین ان کی درآمدات پر 64 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، ہمارے پاس اچھا موقع ہے کہ اس بڑی منڈی میں اپنا حصہ بڑھا کر اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی اے سے مکمل طور پر فائدہ حاصل کرنے کے لئے برآمدات کو بڑھانا ہو گا اور صنعتوں کی استعداد کار مستحکم کرنی ہو گی۔ صنعتی پالیسی کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ چین سے سرمایہ کاری لانے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے تجارت سے متعلق الیکٹرانک ڈیٹا فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس سے مس انوائسنگ کا باآسانی سراغ لگایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آسیان کی طرز پر چین سے ڈیوٹی فری رسائی مانگی ہے، چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کے تحت 313 اشیاءپر ٹیرف لائن صفر مانگی ہیں جو انہوں نے تسلیم کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب پاکستان چین کو 313 اشیاءڈیوٹی فری برآمد کریگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کو ٹیکسٹائل لیدر انجینرنگ مصنوعات سمیت دیگر اشیاءڈیوٹی فری برآمد کر کے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل کرے گا بلکہ برآمدی حجم بڑھے گا جس کا مثبت اثر معیشت پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اندر انوائسنگ درآمدات کے سدباب کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کے فوائد برآمدات پر پڑھیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین پاکستان کو درآمدات اور برآمدات کی تفصیلات ساتھ ساتھ دیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ٹی اے کے تحت صنعتوں کی ترقی اور مسابقتی عمل کے فروغ کے لئے بھی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تجارتی معاہدہ کے تحت پاکستان کو آسیان ممالک کے برابر مراعات دے دی گئی ہیں جو خوش آئند ہیں، چین سے 313 ٹیرف لائن ڈیوٹی فری لی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے بھی ہم سے مراعات مانگی ہیں، چین کو 15 سال میں پاکستان مارکیٹ تک رسائی دی جائے گی، ایف ٹی اے کے تحت پاکستانی صعنت کےلئے تحفظ کےلئے بھی اقدامات رکھے گے ہیں، اس سلسلے میں نیشنل ٹیرف کمیشن کے ادارے کو مضبوط کر رہے ہیں، اس ادارے کی کارکردگی بڑھا کر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ معاہدے پر یکم جولائی سے عمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ کام درست ہو رہا ہے، برآمدات میں ویسا اضافہ نہیں ہوا جیسا ہم چاہتے تھے، حکومت پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لئے دنیا کی مختلف منڈیوں تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی پالیسی کا جلد اعلان کر دیا جائے گا، اس حوالے سے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے تجاویز اور آراءلی گئی ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایف ٹی اے سے پاکستان کی چین کو برآمدات میں 6.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا تاہم چھ ماہ بعد پتہ چلے گا کہ پاکستان کی برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر مل مالکان کے وفد سے ملاقات کی ہے اور ملک میں وافر چینی کا ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کا انتخاب اچھی جگہ پر کیا ہے، ہم چینی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

مزید خبریں

Leave a Reply