چین پاکستان کا دوسرا گھر اور پاکستان بھی چین کا دوسرا گھر ہے، چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آئرن برادرز ہیں، چین پاکستان کا دوسرا گھر اور پاکستان بھی چین کا دوسرا گھر ہے، چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، سیلاب زدگان کے لئے چینی کمپنیوں اور اداروں کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آئرن برادرز ہیں، چین پاکستان کا دوسرا گھر اور پاکستان بھی چین کا دوسرا گھر ہے، چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، سیلاب زدگان کے لئے چینی کمپنیوں اور اداروں کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں چائنہ چیمبر آف کامرس ان پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان میں فلڈ ڈیزاسٹر کے لئے عطیات کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ایک نہ ٹوٹنے والے رشتے کی صورت میں ہیں جو ہمارے بزرگوں سے ہمیں وراثت میں ملے ہیں جس کی حفاظت اور قدر ہم ہر صورت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات ہیں، چین ہمارے لئے دوسرا گھر ہے اور اسی طرح پاکستان بھی چین کے لئے دوسرا گھر ہے۔ وفاقی وزیر نے چین کے مختلف شہروں کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی ہر موسم کی دوستی ہے، یہ دوستی ہمیشہ مستقل اور مضبوط رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین کی رہنما چو این لائی جب پاکستان آئے تو میری والدہ اسلام آباد کی سڑکوں پر دیگر بچوں کے ساتھ چینی پرچم تھامے ان کا استقبال کر رہی تھیں، یہ وہ یادیں ہیں جن میں ہم پروان چڑھے، یہ ہماری ثقافت اور وراثت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہماری نوجوان نسل نے بھی پاک چین دوستی کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا ہے اور یہ تعلقات آج عوامی، ثقافتی اور تعلیمی سطح پر مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی جیانگ کے پاکستان کے لئے جذبہ خیرسگالی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے، ہم نے اس کے شدید اثرات دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لحاظ سے ہم دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں شدید سیلاب آئے اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں لوگ متاثر ہوئے تو چین کی طرف سے مدد اور تعاون اس وقت انتہائی اہم ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چین کی کمپنیوں اور اداروں نے اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے تعاون کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک چین دوستی ناقابل توڑ ہے۔ اس تعاون پر ہم چین کی کمپنیوں کے شکر گذار ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی ہم مشکل حالات کا سامنا کرتے ہیں چین ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے، چین ایک قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان ہمیشہ اس دوستی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تیار رہے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ چین اور پاکستان واقعی ”آئرن برادرز“ ہیں، عوامی، ثقافتی اور تعلیمی تبادلے اس دوستی کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ اس موقع پر چینی سفارت خانہ کے منسٹر قونصلر یانگ گوانگ یوان نے وفاقی وزیر اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے ہمیشہ اپنے ملک کے وقار، عزت اور مفاد کا دفاع کیا ہے، ان کا عزم، استقلال اور نمایاں کردار ہم سب کے لئے لائق تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال سیلاب نے پاکستان میں شدید تباہی مچائی، چین کی حکومت اور عوام نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد فوری مدد اور تعاون کیا۔ چین کی جانب سے حکومت پاکستان کو 100 ملین آر ایم بی مالیت کے ریلیف سامان کے ساتھ 2 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ دی گئی،چین کے شہریوں اور چین کی کمپنیوں نے بھی سیلاب زدگان کے لئے فوری طور پر تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج 34 ملین روپے سے زائد کی امداد پیش کی گئی جس کا بڑا حصہ یہاں کام کرنے والے چینی ملازمین کی طرف سے ہے، یہ تعاون چین اور پاکستانی عوام کے درمیان مضبوط بھائی چارے کی عمدہ مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کسی بھی مشکل میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال دونوں ممالک کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہوگا جب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ چین اور پاکستان کی حکومتیں اور عوام مل کر ایک روشن مستقبل تخلیق کریں گے جس کے پاکستان کے عوام حقیقی طور پر حقدار ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارفہ اقبال نے کہا کہ آج کی تقریب چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات کی گواہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 4 ستمبر کو بیجنگ کا دورہ کیا، اس دوران بی ٹو بی تقریب میں پاکستان سے 400 سے زائد کاروباری شخصیات اور چین کی 600 سے زائد کمپنیاں شریک ہوئیں جبکہ تقریب میں تقریباً 1500 چینی افراد بھی شامل ہوئے اور 167 مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ان پر اب عمل درآمد کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور تعلقات کے مزید فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ واضح رہے کہ چین چیمبر آف کامرس ان پاکستان نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے ستمبر میں امدادی مہم کا آغاز کیا جس میں رکن کمپنیوں کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔ اب تک 32 کمپنیوں نے تقریباً 34 ملین روپے سے زائد رقم امدادی سامان کی خریداری اور تقسیم کے لئے جمع کی۔ اس امداد میں خوراک، پینے کے پانی، کمبل، مچھر دانیاں اور واٹر پروف ترپال جیسی بنیادی اشیاء شامل ہیں جو متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر درکار ہیں۔

مزید خبریں