چین نے کہا ہے کہ چینی بحریہ کی جانب سے آبدوز سے داغے جانے والے سٹریٹجک میزائل کے تجربے نے مطلوبہ ہدف حاصل کیا ہے اور یہ سالانہ فوجی تربیتی منصوبے کا معمول کا حصہ تھا جو بین الاقوامی قانون اور عالمی روایات کے مطابق ہے۔
چین کسی بھی ملک کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا، ترجمان وزارت دفاع

مزید خبریں
بیجنگ ۔8جولائی (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ چینی بحریہ کی جانب سے آبدوز سے داغے جانے والے سٹریٹجک میزائل کے تجربے نے مطلوبہ ہدف حاصل کیا ہے اور یہ سالانہ فوجی تربیتی منصوبے کا معمول کا حصہ تھا جو بین الاقوامی قانون اور عالمی روایات کے مطابق ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق ترجمان وزارت دفاع چھن شی نے چینی بحریہ کی جانب سے آبدوز سے داغے جانے والے سٹریٹجک میزائل کے تجربے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ چین نے اس حوالے سے پہلے ہی متعلقہ ممالک کو اطلاع دے دی تھی، جو چینی فوج کے کھلے پن اور شفاف رویے کی عکاسی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ امن کی بنیاد پر ترقی کے راستے پر گامزن رہنے کا عزم رکھتا ہے، دفاعی نوعیت کی قومی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنی جوہری حکمت عملی میں سیلف ڈیفنس کے اصول کو برقرار رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اپنی جوہری صلاحیت کو ہمیشہ ملکی سلامتی کی ضروریات کے لیے درکار کم سے کم سطح پر برقرار رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین کی جوہری صلاحیت کو جدید بنانے کا مقصد ملکی تزویراتی سلامتی کو یقینی بنانا اور عالمی تزویراتی استحکام کا تحفظ کرنا ہے۔







