واشنگٹن ۔ 11 فروری (اے پی پی) عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے کوئی نیا قرضہ جاری کرنے پر غور نہیں کر رہے تاہم چین کو اس ضمن میں تکینکی معاونت کی پیشکش کی ہے۔عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس کے ایک انٹرویو کے مطابق ان کے ادارے نے نیوکورونا وائرس کی بیخ کنی کے لئے عالمی ادارہ صحت کے ذریع …
چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے کوئی نیا قرضہ نہیں دے رہے ، تکینکی معاونت کی پیشکش کی ہے، عالمی بینک

مزید خبریں
واشنگٹن ۔ 11 فروری (اے پی پی) عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے کوئی نیا قرضہ جاری کرنے پر غور نہیں کر رہے تاہم چین کو اس ضمن میں تکینکی معاونت کی پیشکش کی ہے۔عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس کے ایک انٹرویو کے مطابق ان کے ادارے نے نیوکورونا وائرس کی بیخ کنی کے لئے عالمی ادارہ صحت کے ذریع چین کو شعبہ صحت، سینیٹیشن اور ڈیزیز پالیسی میں تکنیکی امداد جس میں مشاورت بھی شامل ہے ، دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک چین کو نیا قرضہ دینے پر غور نہیں کر رہا اس کی وجہ چین کے پاس اس وائرس سے لڑنے کے لئے اپنے وسائل کا دستیاب ہونا ہے۔چین جو کہ عالمی بینک کا تیسرا بڑا شیئر ہولڈر ہے کو عالمی بینک 2011 سے اب تک14.8 بلین ڈالر کے قرضہ جات دے چکا ہے۔عالمی بینک جس کے اثاثوں کا حجم 470 بلین ڈالر ہے، کے صدر ڈیوڈ ملپاس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے چین کے اپنے وسائل کافی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی اثرات سے دوچار فوڈ ڈیلیوری سے لے کر سمارٹ فونز بنانے والی 300 سے زیادہ چینی کمپنیاں بینکوں سے قرضے لینے بارے غور کر رہی ہیں۔یاد رہے کہ چینی اقتصادی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے باعث چین کی شرح نمو5 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔








