صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کو تجارتی سفارت کاری (Commercial Diplomacy) کو برآمدات کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بناتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو ملک کی اقتصادی اور کاروباری ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا
کمرشل ڈپلومیسی کو نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے،سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کو تجارتی سفارت کاری (Commercial Diplomacy) کو برآمدات کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بناتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو ملک کی اقتصادی اور کاروباری ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو آئی سی سی آئی میں آنے والے کاروباری وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانوں اور کمرشل قونصلرز کو محض سفارتی نمائندگی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں حقیقی خریداروں، سرمایہ کاروں، ڈسٹری بیوٹرز اور کاروباری شراکت داروں سے جوڑنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتکار پاکستانی کاروبار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے مؤثر سہولت کار بنیں۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کے پاس مضبوط صنعتی و پیداواری بنیاد اور وسیع برآمدی صلاحیت موجود ہے، تاہم عالمی منڈیوں میں محدود رسائی، مؤثر برانڈنگ اور بین الاقوامی کاروباری روابط کا فقدان پاکستان کے عالمی تجارت میں حصے کو محدود کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اہم عالمی مارکیٹ کے لیے اس کی طلب، درآمدی استعداد اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح تجارتی حکمت عملی تشکیل دی جانی چاہیے۔آئی سی سی آئی صدر نے تجویز پیش کی کہ پاکستانی سفارتی مشنز، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ، چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی رابطہ قائم کیا جائے تاکہ نئی منڈیوں کی نشاندہی اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی برآمدی مہمات شروع کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل قونصلرز کو ممکنہ خریداروں اور ڈسٹری بیوٹرز کا جدید اور تصدیق شدہ ڈیٹا بیس برقرار رکھنا چاہیے اور پاکستانی برآمد کنندگان کے ساتھ حقیقی کاروباری روابط اور مواقع باقاعدگی سے شیئر کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بالخصوص وسطی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں اپنی تجارتی موجودگی مزید مضبوط بنانی چاہیے، جہاں پاکستانی ٹیکسٹائل، غذائی مصنوعات، ادویات، انجینئرنگ مصنوعات، آئی ٹی سروسز، تعمیراتی سامان اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک خریداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ورچوئل B2B ملاقاتوں کے استعمال کو بھی فروغ دینے پر زور دیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مل کر تجارتی سفارت کاری کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے سفارتکاروں کی ضرورت ہے جو پاکستانی کاروبار کے لیے دروازے کھولیں، اپنے حریفوں سے پہلے کاروباری مواقع تلاش کریں اور سفارتی تعلقات کو تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کریں۔ ہر سفارتخانے کا واضح برآمدی ایجنڈا ہونا چاہیے اور ہر تجارتی کوشش کو بالآخر پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے حقیقی کاروباری نتائج سے جانچا جانا چاہیے۔







