پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس ) میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران منافع جات کی ادائیگی میں 19.18 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے ، اس دوران منافع جات کی ادائیگیاں پہلی مرتبہ ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں ، گذشتہ مالی سال میں منافع جات کی ادائیگی کے حوالے سے بینکاری کا شعبہ پہلے جبکہ تیل اور گیس کی تلاش کا …
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران منافع جات کی ادائیگی میں 19.18 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے ، ذخیرہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس ) میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران منافع جات کی ادائیگی میں 19.18 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے ، اس دوران منافع جات کی ادائیگیاں پہلی مرتبہ ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں ، گذشتہ مالی سال میں منافع جات کی ادائیگی کے حوالے سے بینکاری کا شعبہ پہلے جبکہ تیل اور گیس کی تلاش کا شعبہ دوسرےاور فرٹیلائیزر سیکٹر تیسرے نمبر پر رہا ہے ۔ آن لائن ڈیٹاسروس کمپنی ذخیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کےمطابق گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران پی ایس ایکس میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو 10 لاکھ 11ہزار 727 ملین روپے کے منافع جات کی ادائیگی کی گئی ہے جبکہ مالی سال 2025 میں 8 لاکھ 48 ہزار 907 ملین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں تھیں ۔ اس طرح مالی سال 2025 کے مقابلہ میں گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران پی ایس ایکس میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے اپنے حصہ داروں کو منافع جات کی مد میں ایک لاکھ 62 ہزار 820 ملین روپے یعنی 19.18 فیصد کی زائد ادائیگیاں کی گئیں ہیں ۔ رپورٹ کےمطابق پی ایس ایکس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منافع جات کی ادائیگیاں ایک ٹریلین روپے سےتجاوز کر گئیں ۔رپورٹ کےمطابق گذشتہ ایک دھائی کے دوران پی ایس ایکس کی کمپنیوں کی جانب سے منافع جات کی ادائیگیوں میں 187.15 فیصد کی نمایاں بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2016 میں پی ایس ایکس میں لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے منافع جات کی مد میں 3 لاکھ 52 ہزار 333ملین روپے کی ادائیگی کی گئی تھی جبکہ گذشتہ مالی سال 2026 کے دوران ادائیگیوں کا حجم10 لاکھ 11ہزار 727 ملین روپے تک بڑھ گیا ۔ اس طرح گذشتہ 10 سال میں پی ایس ایکس کی لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے اپنے حصہ داروں کو منافع جات کی ادائیگیوں میں 6 لاکھ 59 ہزار 394 ملین روپے یعنی 187فیصدسے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ پی ایس ایکس میں گذشتہ دھائی کے دوران کی جانے والی سرمایہ کاری پر اوسطاً سالانہ 11.12 فیصد کا منافع حاصل ہوا ہے۔ اس دوران منافع جات کی سب سے کم ادائیگی مالی سال 2020 میں کی گئی اور کووڈ 19کی وباءکی وجہ سے دوران منافع جات کی مد میں 3 لاکھ 7ہزار 776 ملین روپے کی ادائیگی کی گئی تھی ۔ذخیرہ کی رپورٹ کےمطابق کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران تقسیم کئے گئے مجموعی منافع جات میں بینکاری کاشعبہ 40 فیصد کے منافع کےساتھ پہلےنمبر پر رہا ہے اور دوران سال بینکاری کے شعبہ کی جانب سے منافع جات کی ادائیگیاں 30.5 فیصد کے اضافہ سے 3 لاکھ 11 ہزار 617 ملین روپے کے مقابلہ 4 لاکھ 6 ہزار 792 ملین روپے تک بڑھ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق تیل و گیس کی تلاش کی لسٹڈ کمپنیاں گذشتہ مالی سال میں منافع جات کی مجموعی ادائیگی میں 19.3فیصد کی حصہ دار رہیں اور گذشتہ مالی سال کے دور ان کمپنیوں کی جانب سے ایک لاکھ 49 ہزار 961 ملین روپے کےمنافع جات کی ادائیگی کی گئی جبکہ مالی سال 2025کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار 678 ملین روپے کے منافع جات ادا کئے گئے تھے۔منافع جات کی ادائیگی کے حوالہ سے گذشتہ مالی سال میں فرٹیلائیزر سیکٹر تیسرے نمبر پر رہا اور دوران سال شعبہ کی جانب سے 91ہزار 573ملین روپے کےمنافع جات کی تقسیم کی گئی ہے۔







