سری نگر میں امریکی سفیر کا بیان، مسئلہ کشمیر پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا شدید ردعمل

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے امریکی سفیر برائے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں کشمیر کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفیر کا بیان تاریخی حقائق، کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے امریکی سفیر برائے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں کشمیر کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفیر کا بیان تاریخی حقائق، کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔یہاں جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔ کسی بھی ملک یا سفارت کار کی جانب سے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا نہ صرف کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار ہے بلکہ خطے کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ امریکی سفیر کا سری نگر میں اس نوعیت کا بیان دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کی حمایت کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت کے غیر قانونی قبضے، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششیں مزید مؤثر بنائے گی۔