وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز کی تربیت فراہم کرے گا جس سے ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کو مزید فروغ ملے گا۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتیں ملک کی ڈیجیٹل معیشت …
چین ہر سال 3لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز کی تربیت فراہم کرے گا، پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد /لاہور۔19جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز کی تربیت فراہم کرے گا جس سے ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کو مزید فروغ ملے گا۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتیں ملک کی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے خود کو ہم آہنگ کریں تاکہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھ سکیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے زیر اہتمام منعقدہ تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026 کی تقریب کے دوران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جدید دور میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ علم، ہنر اور ٹیکنالوجی تک رسائی ہی اصل سرمایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا بھر کے کلائنٹس کو خدمات فراہم کرکے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی تعاون سے پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل اکانومی ہب بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اڑان پاکستان” وژن میں انوویشن، آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور پاکستانی فری لانسرز اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت فری لانسرز کی کامیابیوں کو سراہنے کے لیے لاہور چیمبر کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکی ہے جبکہ پاکستانی فری لانسرز ہر سال کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا کر قومی معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز درحقیقت ملک کے ڈیجیٹل سفیر ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت عالمی معیار کے ادائیگی نظام اور مضبوط ڈیجیٹل فنانشل ایکو سسٹم کی ضرورت سے پوری طرح آگاہ ہے اور فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ساتھ رابطے میں ہے۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کا مقصد فری لانسرز کو ان کی آمدن محفوظ، تیز اور آسان طریقے سے فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت کاروبار دوست ماحول، شفافیت اور پیش گوئی پر مبنی معاشی پالیسیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جبکہ ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات اور زرمبادلہ کمانے والوں کی حوصلہ افزائی اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، انوویشن، ٹیکنالوجی پارکس، آئی ٹی زونز اور انوویشن ہبز کے قیام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کا آغاز کیا ہے اور حکومت پنجاب صوبے کو مصنوعی ذہانت، انوویشن اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کا قومی مرکز بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن نوجوانوں کو صرف کامیاب فری لانسر نہیں بلکہ اے آئی ڈویلپرز، اسٹارٹ اپ بانی اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی لیڈر بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے اور حکومت کے درمیان مسلسل مشاورت ہی پائیدار اور مسابقتی معاشی پالیسیوں کی ضمانت ہے۔







