چیچہ وطنی، کسان اپنی زمینوں پر تل کی کاشت کو فروغ دیتے ہوئے جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائیں،ڈائریکٹر زراعت ساہیوال

ڈائریکٹر زراعت ساہیوال چوہدری شہباز اختر نے کہا ہے کہ کسانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زمینوں پر تل کی کاشت کو فروغ دیں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری بیج، متوازن کھادوں کا استعمال اور بیماریوں و کیڑوں کا مؤثر کنٹرول کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

چیچہ وطنی۔ 23 اپریل (اے پی پی):ڈائریکٹر زراعت ساہیوال چوہدری شہباز اختر نے کہا ہے کہ کسانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زمینوں پر تل کی کاشت کو فروغ دیں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری بیج، متوازن کھادوں کا استعمال اور بیماریوں و کیڑوں کا مؤثر کنٹرول کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار محکمہ زراعت ساہیوال کے زیر اہتمام ساہیوال میں تل کی کاشت اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت کے حوالے سے سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے ساتھ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ امپورٹ سبسٹیٹیوشن اور برآمدات میں اضافے کے لیے تل، سویا بین اور کینولا کے فروغ کے تین سالہ منصوبے کے تحت منعقد کی گئی۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر محمد اسلم نے تل کی فصل کی پیداواری ٹیکنالوجی کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں خصوصا اقسام کے انتخاب، آبپاشی کے اہم مراحل، کھادوں کے استعمال کا منصوبہ، جڑی بوٹیوں کا کنٹرول اور پودوں کے تحفظ کے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ بہتر پیداوار کے لیے اہم انتظامی مراحل پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر طاہر جاوید نے اس منصوبے کے فوری نفاذ کی ضرورت پر روشنی ڈالی تاکہ تل کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔

انہوں نے شرکا کے لیے بحث کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر بیج کمپنیوں کے نمائندگان اور ڈیلرز نے ساہیوال کے علاقے کے لیے تل کی بہترین اقسام پر روشنی ڈالی۔ کسانوں نے فائیلوڈی اور چارکول روٹ جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ محکمہ پیسٹ وارننگ اور کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈ کے ماہرین نے کسانوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ڈاکٹر محمد اسلم نے تل کی چین کو برآمد کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنیاں تل کی خریداری اور چین کو برآمد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے تل کے معیار، مارکیٹ ریٹ اور چین کو برآمد کے طریقہ کار پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔