راولپنڈی۔ 4 جون (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج پر بہت سے الزام لگے، سب گواہ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے، صفائی دینے کی ضرورت نہیں، اپنی کارکردگی دنیا میں دکھائی، سپر پاور سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشتگردی کے خلاف …
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا کو ملک کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی انتظام سے متعلق بریفنگ

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 4 جون (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج پر بہت سے الزام لگے، سب گواہ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے، صفائی دینے کی ضرورت نہیں، اپنی کارکردگی دنیا میں دکھائی، سپر پاور سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشتگردی کے خلاف وہ کامیابیاں حاصل نہیں کیں جو پاک فوج نے حاصل کی ہیں، مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گرد گروپوں کا صفایا کیا، اس وقت پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی منظم دہشت گرد گروپ کا اسٹرکچر موجود نہیں ہے، کوئی بھی ملک پاکستان کی امن کی خواہش کو ریاست، حکومت اور فوج کی سطح پر کمزوری نہ سمجھے ، آئندہ انتخابات 2018کی تاریخ اور انعقاد کا طریقہ کار طے کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر آئندہ الیکشن میں سکیورٹی یاکسی اور کام کے لئے ریکوزیشن بھجوائی گئی تو اسکا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ،فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کتاب میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات رپورٹ کیے ہیں ،کتاب لکھنے کے لئے جی ایچ کیو سے این او سی بھی نہیں لیا ،ان کے خلاف انکوائری کا جلد نتیجہ نکلے گا، پاک فوج نے خلاف ورزی یا غلطی پر فوج کے سپاہی سے لیکر جنرل تک کے آفیسر کو معاف نہیں کیا، ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، پاکستان کی عوام اپنی فوج سے محبت کرتی ہے،سوشل میڈیا پر جھوٹے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہر چیز کا جواب نہیں دے سکتے، منظور محسود سے منظور پشتین کیسے ہوا، سوشل میڈیا پر مہم چل گئی، کس طریقے سے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہو کر پاکستان آنا شروع ہوگئی، کس طریقے سے اخباروں میں آرٹیکل آنا شروع ہوئے ان سب چیزوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ پیر کو آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں میڈیا کو ملک کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی انتظام سے متعلق بریفنگ دے رہے تھے۔








