اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) احساس کی طرف سے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصنیف کردہ احساس ایمرجنسی کیش رپورٹ کے حوالے سے ڈونرز، عالمی ڈویلپمنٹ پاٹنرز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ ایک ویبینار منعقد کیا گیا۔ اس ویبینار میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس ایمرجنسی کیش پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والے تجر بات …
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصنیف کردہ احساس ایمرجنسی کیش رپورٹ بارے ڈونرز، عالمی ڈویلپمنٹ پاٹنرز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ ویبینار کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 جولائی (اے پی پی) احساس کی طرف سے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصنیف کردہ احساس ایمرجنسی کیش رپورٹ کے حوالے سے ڈونرز، عالمی ڈویلپمنٹ پاٹنرز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ ایک ویبینار منعقد کیا گیا۔ اس ویبینار میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس ایمرجنسی کیش پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والے تجر بات اور کلیدی نتائج شیئر کئے۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ملک کے 16.9 ملین خاندانوں کو کورونا وباءکے باعث مشکل معاشی حالات میں 12,000 روپے کی مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اقوام متحدہ اور ڈی ایف آئی ڈی کے سربراہان اور کنٹری ڈائریکٹرز نے اس ویبینار میں شرکت کی۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے احساس کی روح رواں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی 24 ملین آبادی ایسے افراد پر مشتمل ہے جو دیہاڑی دار ہیں یا غیر رسمی لیبر سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ان کے لئے کورونا لاک ڈاو¿ن کے باعث زندگی کی گاڑی کا پہیہ چلانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ وسیع درجے پر بیروزگاری کے باعث ملک میں بے چینی اور احتجاج کا خدشہ تھا۔اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے احساس پروگرام ترتیب دیا جو کہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے۔ یہ پروگرام لاک ڈاو¿ن کے نفاذ کے دس روز کے اندر شروع کیا گیا۔ 16.9 ملین خاندانوں کی مالی امداد کے لئے 1.23 بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی۔اگر پاکستان میں آبادی کے عمومی سائز کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر 109 ملین افراد اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نشتر نے بتایا کہ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح احساس فریم ورک کے تحت کی گئی اصلاحات کے مطابق تشکیل دئیے گئے ڈیجیٹل سسٹم اور دیگر سروسز کو استعمال میں لاتے ہوئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا خاکہ تشکیل دیا گیا۔ قواعد و ضوابط پر عملداری کو یقینی بنانے کے لئے حقیقت و ثبوت پر مبنی فیصلہ سازی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے۔ ادائیگیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی گئی۔ 8171 ایس ایم ایس شارٹ کوڈ سروس اورویلتھ پروفائل ڈیٹا اینالیٹکس کو پروگرام میں شامل کیا گیا۔ان اقدامات نے حکو مت کو زیادہ فعال، ڈیٹا پر مبنی اورجامع منصوبہ سازی میں مدد دی۔ ڈونرز کی طرف سے احساس ایمرجنسی پروگرام کو شفاف اور مو¿ثر انداز میں لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد بہم پہنچانے پر سراہا گیا،پروگرام کے ڈیزائن کی تعریف کی گئی جس میں سیفٹی نیٹس اور مالی شمولیت کو فعال انداز شامل کیا گیا جو مستفید ہونے والے افراد اور پاکستان کے لئے آئندہ آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔ عالمی اداروں کی جانب سے اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تجربات دوسرے ممالک کے لئے بھی اہم اثاثہ ثابت ہوں گے۔








