ڈریپ لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن سے نمایاں تبدیلی ، لائسنسنگ کا پروسیسنگ دورانیہ سالوں سے دنوں تک کم ہوگیا

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن سے نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ، لائسنسنگ کا پروسیسنگ کا دورانیہ سالوں سے دنوں تک کم ہوگیا۔ ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹرعبداللہ نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کےلئے بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں اصلاحات کے نتیجہ میں انقلاب رونما ہوا ہے اور لائسنسنگ …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن سے نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ، لائسنسنگ کا پروسیسنگ کا دورانیہ سالوں سے دنوں تک کم ہوگیا۔ ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹرعبداللہ نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کےلئے بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں اصلاحات کے نتیجہ میں انقلاب رونما ہوا ہے اور لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن کے اقدام سے سالوں کا کام اب دنوں میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

ہفتہ کو ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر عبید اللہ نے اتھارٹی کے سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی ڈیجیٹل اپروچ نے لائسنسنگ اور منظوری کے عمل کو نمایاں طور پر تیزکردیا ہے جس سے دورانیہ بھی دنوں تک محدود ہوگیا جبکہ قبل ازیں اس کام کے مکمل ہونے میں کئی سال لگتے تھے۔ انہوں نے حکومت کی حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی حمایت نے ڈریپ کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری عمل اور خدمات کو مزید بہتر بنانے کےلئے اتھارٹی کے عزم کو بھی دوہرایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈریپ اب معیاری ادویات تک بہتری رسائی فراہم کرنے کے قابل ہے جبکہ منظوری کی ٹائم لائنز میں بھی کافی بہتری آئی ہے جس سے تاخیر کا خاتمہ ہوا ہے جو پہلے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تبدیلی سے ڈریپ کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور عوام کےلئے اہم ادویات کی بروقت دستیابی بھی یقینی ہوئی ہے۔

مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبیداللہ نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین کے اجزا کا معیار بہتر ہو رہا ہے اور ویکسینز کی دستیابی کو مزید بہتر بنانے کی کاوشیں جاری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی اور بین الاقوامی حکومتوں کے تعاون سے پاکستان مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت کو ترقی دینے کے قریب تر ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد ویکسینز کی سپلائی چین کا استحکام اور صحت کی دیکھ بھال میں زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کو یقینی بنانا ہے۔