اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات جو دوستی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، کو بڑی اہمیت دیتا ہے، انہوں نے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ارکین پارلیمنٹ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط …
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی جنوبی افریقہ کے دو رکنی وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات جو دوستی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، کو بڑی اہمیت دیتا ہے، انہوں نے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ارکین پارلیمنٹ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنوبی افریقہ کے دو رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے پرنس تمبوزی ڈیمینی کی سربراہی میں منگل کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاو¿س میں ان سے ملاقات کی۔ ڈپٹی سپیکر نے وفد کے ممبران کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کی فاشسٹ حکومت نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 الف کو منسوخ کرکے کشمیریوں کو ان کی جائز شناخت کے حق سے محروم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری وادی میں گذشتہ 183 دنوں سے تاریخ کا بدترین لاک ڈاو¿ن جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری کشمیری قیادت جیلوں میں نظر بند ہے اور کشمیری عوام کی آواز دبانے کےلئے میڈیا پر بھی پابندی عائد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وادی میں جاری لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے کشمیری عوام شدید سردی کے موسم میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 183 دنوں سے جاری لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے وادی میں خوراک، ادویات اور ایندھن سمیت زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کا واحد آپشن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ وادی میں رائے شماری ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر جنوبی افریقہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر حمایت ہمارے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے سابق صدر جنوبی افریقہ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد آزادی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے دلوں میں نیلسن منڈیلا کےلئے بے حد احترام ہے جو 20ویں صدی کے ایک عظیم ترین سیاستدان تھے اور جنہوں نے افریقی براعظم میں جمہوری اقدار کے فروغ کےلئے قید و بند کی صعوبتیں جھلیں۔ ڈپٹی سپیکر نے پارلیمانی اور اقتصادی رابطوں میں اضافہ کے ذریعے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے سرمایہ کاروں کو موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین تجارت کا حجم نسبتا کم ہے جسے وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ جنوبی افریقی وفد کے ممبران نے کہا کہ جنوبی افریقہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ وفد نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پرنس تمبوزی ڈیمینی نے اس امید کا ظاہر کیا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودہ لاک ڈاو¿ن جلد ہی ختم ہو جائے گا اور یہ خطہ معمول کی طرف لوٹ آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطہ کا ایک اہم ملک ہے اور ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم اوربڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ میں معاشی، سماجی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے۔ جنوبی افریقہ کے وفد نے ڈپٹی سپیکر کو دورہ جنوبی افریقہ کی دعوت بھی دی۔








