کابل ، دوسرے پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے اختتام پر انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مشترکہ مفاہمتی یادداشت پردستخط

کابل ۔ 15 دسمبر (اے پی پی) کابل میں منعقدہ دوسرے پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے اختتام پر انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مشترکہ مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے۔قبل ازیں سہہ فریقی مذاکرات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے کے خوشحال، مستحکم اور پر امن مستقبل کے لئے ہم تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا بہت ضروری …

کابل ۔ 15 دسمبر (اے پی پی) کابل میں منعقدہ دوسرے پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے اختتام پر انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مشترکہ مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے۔قبل ازیں سہہ فریقی مذاکرات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے کے خوشحال، مستحکم اور پر امن مستقبل کے لئے ہم تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے ،خطے میں معاشی ترقی اور امن واستحکام کے لئے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔چین،پاکستان اور افغانستان کے وزراءخارجہ وانگ ژی،شاہ محمود قریشی اور صلاح الدین ربانی مذاکرات میں اپنے ملکی وفود کی قیادت کر رہے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔پاکستان ،چین اور افغانستان کی معیشتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہتر اقتصادی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا،ہمیں تعاون کو بڑھانے اور انٹیلی جنس روابط میں بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے چیلنج کا بہترین حل روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ترقی ہے، سہ فریقی تعاون اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے۔گزشتہ تین ماہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کابل کا یہ دوسرا دورہ ہے۔انہوںنے کہا کہ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے افغانستان کی صورتحال سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ افغانستان کے عوام گذشتہ چالیس سال سے عدم استحکام اور دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان قیادت کی سربراہی میں مذاکرات کی حمایت کی ہے۔افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستانی ترقیاتی کاموں کو اجاگر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کابل میں جناح اور لوگر میں ھسپتالوں کا جلد افتتاح کرنے جا رہے ہیں،یہ دونوں ہسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کے لئے تحفہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین مذہبی، تہذیبی اور تاریخی ہم آہنگی ہے۔تینوں ممالک کے باشندوں کے درمیان گہرے روابط ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو خاص اہمیت دیتی ہے۔خطے کے خوشحال، مستحکم اور پر امن مستقبل کے لئے ہم تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ہمیں فخر ہے کہ ہم اپنے افغانی بہنوں اور بھائیوں کے کی پچھلی چار دہائیوں سے میزبانی کرتے آرہے ہیں ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کابل میں منعقدہ دوسرے پاک چین افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے اختتام پر انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے مشترکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی بھی موجود تھے۔بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس سہ فریقی فورم کو ورک فورس کی استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی معاونت کی فراہمی کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے ۔اس فورم کے ذریعے معلومات کا تبادلہ انتہائی اہم ہو گا ہم ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے سہ فریقی مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کے بہترین انتظامات پر وزیر خارجہ افغانستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یقیناً افغانستان ہمارے لیے اہم ہے لیکن میں یہاں سہ فریقی مذاکرات سے کچھ آگے کرنے کے لیے آیا ہوں،ہمیں آپس میں عدم اعتماد کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں اس سہ فریقی فورم کے ذریعے افغانستان کی عوام کو قیام امن کا تحفہ دینے آئے ہیںاس کا فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے،الزام تراشی کسی کو کچھ فائدہ نہیں دے گی ہمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔میرا یہاں آنے کا مقصد خطے میں ربط کو بڑھانا ہے سی پیک ایک بہترین موقع ہے افغانستان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں غربت کے خلاف لڑنا ہے،ہمیں خطے میں دہشتگردی کو شکست دینا ہے اور یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے،افغانستان کے وزیر خارجہ سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان میں وفد بھیجیں اور دیکھیں کہ سی پیک ہمارے لیئے کتنا سود مند ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں ان مشترکہ مشکلات سے نکلنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔