فیصل آباد ۔ 07 جنوری (اے پی پی):کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کسانوں کی سہولت کیلئے آئندہ سیزن کا کاٹن کیلنڈر جاری کردیاہے جس پر عمل کر کے کاشتکار کپاس کی مزید بہتر پیداوار حاصل کرسکیں گے۔کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق کپاس ہمارے ملک کی زراعت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے تاہم جن علاقوں میں کاشتکاروں نے کپاس کے بعد گندم کاشت نہیں کی وہاں سورج مکھی …
کاشتکاروں کی سہولت کیلئے آئندہ سیزن کا کاٹن کیلنڈر جاری

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 07 جنوری (اے پی پی):کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کسانوں کی سہولت کیلئے آئندہ سیزن کا کاٹن کیلنڈر جاری کردیاہے جس پر عمل کر کے کاشتکار کپاس کی مزید بہتر پیداوار حاصل کرسکیں گے۔کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق کپاس ہمارے ملک کی زراعت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے تاہم جن علاقوں میں کاشتکاروں نے کپاس کے بعد گندم کاشت نہیں کی وہاں سورج مکھی کاشت کی جاسکتی ہے لیکن پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار کپاس کی فصل پر ہے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی مجموعی پیداوارکا تقریباً 75 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے لیکن کپاس کی اچھی اور بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے مختلف عوامل اور مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملہ کے پیش نظر موسم سرما کے دوران مؤثر حکمت عملی اپنا کر آئندہ کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے کیونکہ گلابی سنڈی نومبر،دسمبر میں سرمائی نیند کی حالت میں چلی جاتی ہے اور موسم سرما جڑے ہوئے بیجوں،چھڑیوں پر بچے کھچے ٹینڈوں اور جننگ فیکٹریوں کے کچرے میں خوابیدہ حالت میں گزارتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمائی نیند سوئی ہوئی سنڈیوں کے پروانے بننے کا انحصار زیادہ تر درجہ حرارت پر ہے کیونکہ مناسب درجہ حرارت میسر آنے پر پروانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار موسم سرما کے دوران درج ذیل حکمت عملی اپنا کرآئندہ آنے والی کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چنائی مکمل ہونے پر اَن کھلے اورمتاثرہ ٹینڈے اچھی طرح توڑ لیے جائیں بعد ازاں ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلاکر پوری طرح کھلنے کے بعد پھٹی کو الگ کر لیا جائے اور بچے ہوئے مواد کوتلف کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائیں تاکہ کچے ٹینڈے جانوروں کی خوراک بن سکیں اور گلابی سنڈی کے لاروے کا خاتمہ ہو سکے نیزجن کھیتوں میں کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا حملہ ہوا ہو وہاں گرے ہوئے ٹینڈے تلف کرنے کے بعد کھیتوں کو روٹاویٹ کر دیاجائے تا کہ بچے ہوئے مواد میں سے موجود سنڈیا ں تلف ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی چھڑیاں کاٹ کر استعمال کر لی جائیں اورڈھیرلگاتے وقت چھوٹے گٹھوں کی حالت میں اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نچلی طرف ہوں تاکہ دھوپ کی وجہ سے ان چھڑیوں میں موجود سنڈیاں اور لارواتلف ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکارمناسب وقفہ سے چھڑیوں کی ڈھیریوں کو الٹ پلٹ کرتے ر ہیں جبکہ کپاس کی چھڑیوں کی کٹائی زمین کی سطح کے برابر یا گہرائی سے کی جائے اور کپاس کے کھیتوں میں گرے ہوئے ٹینڈوں، مڈھوں اور جڑی بوٹیوں کو روٹاویٹر یا مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر زمین میں ملا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جننگ فیکٹریوں میں موجود ٹینڈے، بیج اور کچرا وغیرہ اکٹھاکر کے تلف کر دیں۔








