لاہور۔ 27 اگست (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آبادکے ماہرین نے کہاکہ کاشتکار گاجر کی کاشت کیلئے گہری میرا اور اگیتی پیداوارکیلئے ریتلی میرا زمین کا انتخاب کریں جبکہ چکنی زمین میں گاجر کی کاشت سے اجتناب کیاجائے کیونکہ اس میں کئی جڑوں والی چھوٹی چھوٹی گاجریں بننے کا امکان ہو تاہے نیز پنجاب میں گاجر کی کاشت کیلئے ستمبر کا دوسرا ہفتہ نہایت موزوں ہے تاہم گاجر …
کاشتکار چکنی زمین میں گاجر کی کاشت سے اجتناب کریں، ترجمان آری

مزید خبریں
لاہور۔ 27 اگست (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آبادکے ماہرین نے کہاکہ کاشتکار گاجر کی کاشت کیلئے گہری میرا اور اگیتی پیداوارکیلئے ریتلی میرا زمین کا انتخاب کریں جبکہ چکنی زمین میں گاجر کی کاشت سے اجتناب کیاجائے کیونکہ اس میں کئی جڑوں والی چھوٹی چھوٹی گاجریں بننے کا امکان ہو تاہے نیز پنجاب میں گاجر کی کاشت کیلئے ستمبر کا دوسرا ہفتہ نہایت موزوں ہے تاہم گاجر کی اگیتی کاشت اگست کے آخر میں اور پچھیتی کاشت اکتوبر میں بھی جاری رکھی جاسکتی ہے۔
علاوہ ازیں گاجرکی درآمد شدہ اقسام نومبر اور دسمبر میں بھی کاشت کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گاجر سرد آب و ہوا کی فصل ہے لہٰذا بیج کے اگاؤ کیلئے 7 تا 24 ڈگری سینٹی گریڈ مثالی درجہ حرارت ہے۔اسی طرح 20 تا 25 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ پیداوار اور اچھی گاجر لینے کیلئے انتہائی مناسب ہے۔ انہوں نے کہاکہ بوائی سے پہلے اگر بیج 12گھنٹے پانی میں بھگو لیا جائے تو شرح اگاؤ میں اضافہ ممکن ہے جبکہ اچھی قسم کا صحت مند اور زیادہ روئیدگی والا بیج جو جڑی بوٹیوں سے پاک و صاف ہو استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ تجربات کی روشنی میں 6 تا 8 کلو گرام بیج ایک ایکڑ کیلئے کافی ہوتا ہے تاہم اگیتی فصل کی صورت میں شرح بیج 15کلو گرام فی ایکڑ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکاراس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مذکورہ زمین میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام بھی موجود ہو۔ انہوں نے کہاکہ زمین کو تیارکرنے کیلئے تین سے چار مرتبہ گہراہل چلا کراسے سہاگہ دینے کے بعد اچھی طرح بھربھرا کرلیاجائے نیز 10 سے 15 ٹن فی ایکڑ گوبر کی گلی سڑی کھاد بھی زمین پر بکھیر کر مکس کردی جائے۔انہوں نے کہاکہ گاجر کی کاشت سے قبل 2 مرتبہ راؤنی کرنے سے وتر مناسب حد تک محفوظ اور زمینی درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔







