کاشتکار ڈرل یا پلانٹر کے ساتھ ہموار کھیتوں میں مکئی کی فصل کاشت کرنے کےلئے بیج کی شرح12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑر کھیں،محکمہ زراعت

فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کہا ہے کہ کاشتکار ڈرل یا پلانٹر کے ساتھ ہموار کھیتوں میں مکئی کی فصل کاشت کرنے کےلئے بیج کی شرح12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑر کھیں، اگر ڈرل یا پلانٹر کے ساتھ ہموار کھیت میں فصل کاشت کرنی ہو تو پھر 12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کرکے اسی …

فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کہا ہے کہ کاشتکار ڈرل یا پلانٹر کے ساتھ ہموار کھیتوں میں مکئی کی فصل کاشت کرنے کےلئے بیج کی شرح12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑر کھیں، اگر ڈرل یا پلانٹر کے ساتھ ہموار کھیت میں فصل کاشت کرنی ہو تو پھر 12 سے 15 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کرکے اسی وتر میں کردی جائے تاہم اگر وٹوں پر کاشت کرنی ہو تو پھر ٹریکٹر کے ساتھ وٹیں بناکر 8 سے 10 کلو گرام بیج کا 1،1 دانہ مناسب فاصلہ پر لگاکر پانی لگا دیا جائے لیکن پہلا پانی لگانے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے تاکہ پانی زیادہ اونچا وٹوں پر نہ چڑھ جائے ورنہ اگاؤ متاثر ہو یا پھر یہ طریقہ اختیار کرلیا جائے کہ وٹوں کو پانی لگا کر مکئی کے بیج کا1،1 دانہ پانی کی ریز پر لگا دیا جائے اس طرح بیج کا اگاؤ بہترین ہوگا اور فصل سے مطلوبہ پیداوار حاصل ہوسکے گی۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کاشتکار زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لیولر کریں اور زمین کی پہلی تیاری مکمل کرنے کے بعد 10 سے 12 ٹن فی ایکڑ گوبر کی کھاد ڈال کر اس کو کھیت میں بکھیرنے کے بعد بیجائی کےلئے راؤنی کریں اورزمین وتر آنے کے بعد سب سے پہلے سہاگہ دیا جائے تاکہ کھیت میں ڈھیلے وغیرہ نہ بنیں، اس کے بعد زمین کو بیجائی کےلئے تیار کیا جائے لیکن تیار کرنے سے پہلے مصنوعی کھادوں فاسفورس اور پوٹاش کی پوری مقدار جبکہ نائٹروجن کھاد کی پہلی قسط جوکہ سنتھیٹک اقسام کےلئے تقریباً 6 بوری ایس ایس پی، ڈیڑھ بوری سلفیٹ آف پوٹاش اور آدھی بوری یوریا بنتی ہے جبکہ دوغلی اقسام یعنی ہائبرڈ کےلئے تقریباً ساڑھے6 بوری ایس ایس پی، 2بوری سلفیٹ آف پوٹاش اور1 بوری یوریا بنتی ہے ڈالی جائے۔

انہوں نے کاشتکاروں کو آلو، کپاس اور کماد کے کھیت خالی ہونے پربہاریہ مکئی کی کاشت فروری کے آخر تک مکمل کرنے، پانی بخوبی جذب کرنے والی بھاری میرازمین کے انتخاب اور کھیت کی سطح ہموار رکھنے کی ہدایت کی تاکہ بہتر کاشت کی صورت میں بمپر کراپ کاحصول ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار مکئی کے بیج کے حصول کےلئے بہاریہ کاشت کوفروغ دیں کیونکہ اس موسم میں مکئی کی اقسام کے کھیت دور دور ہونے کے باعث خالص بیج حاصل کرناممکن ہو سکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ بہاریہ مکئی کی کاشت اور سنبھال موسمی مکئی کی نسبت آسان ہونے کے ساتھ ساتھ نفع بخش بھی ہے لہٰذا کاشتکار ابھی سے اپنے آپ کو ذہنی طور پر بہاریہ مکئی کی بوائی کےلئے تیار کر لیں اور جونہی آلوؤں، کپاس اور کماد وغیرہ کے کھیت خالی ہوں تو زمین کو اچھی طرح تیار کرکے مکئی کی فصل کو بروقت کاشت کریں۔ انہوں نے بتایاکہ مکئی پیداواری صلا حیت کی وجہ سے غلہ دار اجناس میں بڑی اہمیت کی حامل ہے جبکہ پاکستان میں رقبے کے لحاظ سے گندم اور چاول کے بعد مکئی تیسرے نمبر پر کاشت ہونے والی فصل اور فی ایکڑ اوسط پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے۔