لاہور۔30اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد سموگ سے بچائو کیلئے فصلوں کی باقیات کوہرگز آگ نہ لگا ئیں۔ کاشتکار فصلوں کی باقیات کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں، مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔ ترجمان نے بتایا …
کاشتکار کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کوآگ لگانے سے گریز کریں،محکمہ زراعت

مزید خبریں
لاہور۔30اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد سموگ سے بچائو کیلئے فصلوں کی باقیات کوہرگز آگ نہ لگا ئیں۔ کاشتکار فصلوں کی باقیات کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں، مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب کے سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت5 ارب روپے کی لاگت سے کاشتکاروں کو5 ہزار سپر سیڈرز60 فیصد سبسڈی پر فراہم کیے گئے ہیں تاکہ فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری کے استعمال سے کار آمد بنایا جا سکے۔کاشتکار سپر سیڈرز کی مدد سے بھی فصل کی باقیات کو تلف کر سکتے ہیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کر کے پانی لگا دیں، اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
یاد رکھیں حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق دھان کے مڈھوں کو آگ لگانا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔دھان کے مڈھوں اور پرالی کو آگ لگانے والے عناصر کے خلاف جرمانہ اور گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔








