اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) کرغزستان میں پاکستان کے سفیرفیصل ترمذی نے کہا ہے کہ کرغزستان اور وسطی اشیاءکے دیگر ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی وسیع مارکیٹ موجود ہے جن سے پاکستانی تاجر بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پاکستان اور کرغستان میں باہمی تجارت کے فروغ سے دونوں ملکوں کے عوام مستفید ہو سکتے ہیں، پاکستان کرغستان کے راستے تجارت کیلئے یوریشیاکی آٹھارہ کروڑ آبادی تک پہنچ …
کرغزستان اور وسطی اشیاءکے دیگر ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی وسیع مارکیٹ موجود ہے، فیصل ترمذی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) کرغزستان میں پاکستان کے سفیرفیصل ترمذی نے کہا ہے کہ کرغزستان اور وسطی اشیاءکے دیگر ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی وسیع مارکیٹ موجود ہے جن سے پاکستانی تاجر بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پاکستان اور کرغستان میں باہمی تجارت کے فروغ سے دونوں ملکوں کے عوام مستفید ہو سکتے ہیں، پاکستان کرغستان کے راستے تجارت کیلئے یوریشیاکی آٹھارہ کروڑ آبادی تک پہنچ سکتا ہے باہمی صنعت و تجارت کے لئے حکومتی سطح پر سہولیات میں بہتری لائی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں تاجرتنظیموں کا کردار بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوںنے یہ بات فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس کی انٹرنیشنل ٹریڈ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک خصوصی نشست کے دوران کہی، جس کا اہتمام کمیٹی کے کنوینئر خورشید برلاس نے کیا۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اعجاز عباسی، کمیٹی کے کنوینئر خورشید برلاس،ڈپٹی کنوینئر فاطمہ عظیم، ایم ڈی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میاں ایاز، سینڈنگ کمیٹی کے اراکین سابق سفیر شوکت علی مخدوم ، فہد برلاس ، اسفند یار آفریدی بھی موجود تھے۔ فیصل ترمذی نے کہاکہ وہ پاکستان میں کرغزستان کے سفیر کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں میں تجارتی تعاون میں حائل روکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سے براہ راست فلائٹ نہ ہونے کی وجہ سے لمبے راستے سے دونوں ملکوں میں آمد رفت اس وقت تکلیف دہ ہے جس کے لئے وہ ہر فورم سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوںمیںگہرے تاریخی روبط ہیں، پلاو ، کوفتہ ، قورمہ ، آلو گوشت ، ٹوٹا چاول،شاشلک پسندید ہ خوراک ہے،ٹراوٹ مچھلی بکثرت پائی جاتی ہے، کرغزستان میں چترالی ٹوپیوں، شالز ، گرم ملبوسات، فارماسیوٹکلز، پاکستانی کنو،آلو پیاز اور پاکستانی فرنیچر کی زبردست مانگ ہے، اس وقت 26 سو پاکستانی طلباءکرغزستان میں میڈیکل و انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کرغزستان سے گاڑیوں کے سپیئر پارٹس کی امپورٹ نفع بخش کاروبار ہے۔ فیصل ترمذی نے بتایا کہ کرغستان میں کپڑوں کی سلائی کا جواب نہیں، شہد بہت معیاری اور سستا ہے اور اسی طرح ڈرائی فروٹ بھی عام ہے۔ اعجاز عباسی نے کہاکہ ایف پی سی سی آئی مختلف ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی تجارت کے لئے کوشاں ہے اوراس کے لئے انٹرنیشنل ٹریڈ کمیٹی فعال کردار ادا کررہی ہے۔کمیٹی کے کنوینئر خورشید برلاس نے کہا کہ کرغستان میںتجارتی نمائش کے انعقاد کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستانی تاجروںکے لئے یوریشیاءکا تجارتی راستہ کھل سکے ۔ سابق سفیر شوکت علی مخدوم نے بیرونی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں اضافے کے حوالے سے گفتگو کی۔








