کسٹمز ویلیوایشن رولنگ 90 روز گزرنے سے ازخود ختم نہیں ہوتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 اے کے تحت جاری ویلیوایشن رولنگ صرف 90 روز گزرنے کی بنیاد پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس وقت تک قابلِ عمل رہتی ہے جب تک مجاز اتھارٹی اسے نظرثانی، منسوخ یا نئی ویلیوایشن رولنگ سے تبدیل نہ کرے

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 اے کے تحت جاری ویلیوایشن رولنگ صرف 90 روز گزرنے کی بنیاد پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس وقت تک قابلِ عمل رہتی ہے جب تک مجاز اتھارٹی اسے نظرثانی، منسوخ یا نئی ویلیوایشن رولنگ سے تبدیل نہ کرے۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ کسٹمز رولز 2001 کے رول 107 میں 90 روز کی مدت ویلیوایشن کے لئے استعمال ہونے والے تقابلی اعداد و شمار کی زمانی مطابقت سے متعلق ہے، یہ مدت دفعہ 25 اے کے تحت جاری ویلیوایشن رولنگ کی قانونی مدتِ نفاذ مقرر نہیں کرتی۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تھا، کسٹمز کلکٹر اپریزیمنٹ (ایسٹ) کراچی کی جانب سے دائر سول پٹیشنز نمبر 86-K سے 115-K/2023 کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا 16 نومبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام درخواستیں اپیلوں میں تبدیل کرکے منظور کر لیں۔فیصلے کے مطابق زیرِ بحث ویلیوایشن رولنگ نمبر 874 آف 2016، 22 جون 2016 کو دفعہ 25 اے کے تحت جاری کی گئی تھی اور متعلقہ درآمدی اشیا کی اسیسمنٹ کے وقت نافذ العمل تھی۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ متعلقہ اسیسمنٹس سے قبل اسے مجاز اتھارٹی نے نظرثانی یا منسوخ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ اور کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل نے صرف 90 روز گزرنے کی بنیاد پر مذکورہ ویلیوایشن رولنگ کو غیر مؤثر قرار دے کر اشیا کی اسیسمنٹ کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25(1) کے تحت کرنے کی ہدایت دی، جو قانونی طور پر برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب تک دفعہ 25 اے کے تحت جاری ویلیوایشن رولنگ نافذالعمل ہو، محض 90 روز گزرنے کی وجہ سے اس کے بجائے درآمد کنندہ کی جانب سے ظاہر کردہ ٹرانزیکشن ویلیو کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، البتہ قانون کے مطابق مجاز اتھارٹی کو رولنگ پر نظرثانی یا اسے منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مزید خبریں