اسلام آباد ۔ 3 جون (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی ایک معزز جج کے مکالمے یاکلمات پرحکومت کی جانب سے دکھ اور افسوس کے اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیںہے کہ حکومت اور عدلیہ میں کسی قسم کی محاذ آرائی ہونے چلی ہے یا تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، نقطہ نظر کے اختلاف کو تصادم سے تشبیہہ دینا اورہرمعاملے …
کسی معزز جج کے مکالمے پرحکومت کی جانب سے دکھ اور افسوس کے اظہار کا مطلب حکومت اور عدلیہ میں کسی قسم کی محاذ آرائی شروع ہونا نہیں ہے ، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جون (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی ایک معزز جج کے مکالمے یاکلمات پرحکومت کی جانب سے دکھ اور افسوس کے اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیںہے کہ حکومت اور عدلیہ میں کسی قسم کی محاذ آرائی ہونے چلی ہے یا تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، نقطہ نظر کے اختلاف کو تصادم سے تشبیہہ دینا اورہرمعاملے کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرنا دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں استحکام کی بجائے ٹکراﺅ اور انتشار چاہتی ہے۔ہفتہ کو یہاں جاری بیان میں وزیرِ داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض عناصر نے اس بات کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے کہ وہ اداروں اور حکومت کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دیں اورکسی بھی نوعیت کے معاملے پر سیاسی بیان بازی اورپوائنٹ سکورنگ کی روش کو اس انتہا پر لے جا کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کریں وزیرداخلہ نے کہاکہ آج عدلیہ اورجج صاحبان کے خود ساختہ محافظ بننے والے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ انکے اپنے دورِ اقتدار میں کس طرح اداروں کو تضحیک اور تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور کس طرح بڑے بڑے ایوانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کی جانب سے عدالتی شخصیات کی توہین اور عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا نفی کی جاتی رہی۔








