اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے حوالے سے بین الاقوامی تقریری مقابلوں کا انعقاد قابل ستائش ہیں، مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی فوج کشی، غیر قانونی قبضہ اور تسلط قائم ہے اور کشمیریوں کو بدترین تشدد کا …
کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عزم و استقامت سے کھڑے ہیں ، ایسے مقابلوں سے بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کا بہتر بنانے میں مدد ملے گی،علی امین خان گنڈ ا پور

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے حوالے سے بین الاقوامی تقریری مقابلوں کا انعقاد قابل ستائش ہیں، مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی فوج کشی، غیر قانونی قبضہ اور تسلط قائم ہے اور کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے، لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں خواتین کو بیوہ کر دیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں خواتین کو برسوں سے اپنے خاوندوں سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عزم و استقامت سے کھڑے ہیں، ایسے مقابلوں سے بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی ورچوئل تقریری مقابلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بھارت کے غیر قانونی غاصبانہ قبضہ کے خلاف (آج) منگل 27 اکتوبر کو کشمیری عوام یوم سیاہ کے طور پر منائے گی۔ وفاقی وزیر نے بین الاقوامی ورچوئل تقریری مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے شرکاءکا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہم مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے حوالے سے بین الاقوامی تقریری مقابلے کا انعقاد قابل ستائش ہیں، مسئلہ کشمیر پر تقریری مقابلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، ایسے مقابلوں سے بین الاقوامی عوامی رائے عامہ کا بہتر اندازہ ہوتا ہے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی فوج کشی, غیر قانونی قبضہ اور تسلط قائم ہے اور کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے، لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں خواتین کو بیوہ کر دیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں خواتین کو برسوں سے اپنے خاوندوں سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے، کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عزم و استقامت سے کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائزتسلط کو مزید سخت کر دیا ہے اور گزشتہ سال 5 اگست کو انتہائی قابل مذمت اقدامات اٹھاتے ہوئے بھارت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں اور بین الالقوامی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں، بھارت اسرائیل کی طرز پر مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کشمیریوں کو نام نہاد پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت شہید کیا جارہا ہے اور لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جارہی ہے تاکہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر سکے لیکن کشمیری عوام نہتے بھارتی عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات خطے میں سیکورٹی سے متعلق شدید خدشات کو جنم دے رہے ہیں ، کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے سے بھارتی مذموم سازش کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر نے کہا کہ بھارتی ہندوتوا کے ہندو انتہا پسند پالیسیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، پاکستان نریندر مودی کے ہندو انتہا پسند نظریے کو بے نقاب کرتا رہے گا ۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ کشمیر سے متعلق جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کے وژن کو پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، حکومت پاکستان کی کوششوں کے باعث آج دنیا میں بھارتی نام نہاد سیکولرازم اور جمہوریت کے دعوے بے نقاب ہو چکے ہیں، بھارت اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے خطرناک ملک بن چکا ہے ، بھارت میں ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت دیگر غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیمیوں پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک ہیں بھارت کی انتہا پسند پالیسیاں پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں ۔ وفاقی وزیر نے یورپی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹرین، او آئی سی، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیوں کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بھرپور حمایت کو سراہا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے متعلق حقوق کی آگاہی میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عالمی رائے عامہ تیزی سے کشمیریوں کی حمایت میں بڑھ رہی ہے، عالمی رائے عامہ جلد اپنے معاشی، سیاسی مفادات کی حامل طاقتوں پر حاوی ہو گی، دنیا میں انسانی حقوق کے معاملات کو ترجیج دی جائے گی ۔انہوں نے مستقبل میں بھی ایسے مقابلوں کاانعقاد کیا جائے گا ایسے مقابلوں کے توسط سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کو اجاگر کیا جاسکے گا۔ وفاقی وزیر کے خطاب کے بعد یوم سیاہ کشمیرکے حوالے سے وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام بین الاقوامی ورچوئل تقرری مقابلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہے ۔ اس تقریری مقابلے میں 29 مقررین نے شرکت کی جن میں سے 18 مقررین کا تعلق 16 ممالک سے تھا جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی مختلف یونیورسٹیوں سے 11 مقررین نے بھی ان مقابلوں مین حصہ لیا ہر مقرر کو تقریر کے لئے دس دس منٹ کا ٹائم دیاگیا تھا ۔ مقابلوں میں شریک نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ سے شرکت کرنے والے مقرر شیزاد فہد نے اپنی تقریر میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کے اعداد و شمار دیکھ کر ہولوکاسٹ اور امریکہ میں بلیک سلیوری یاد آتی ہے، مسئلہ کشمیر عالمی اور علاقائی امن کے لیے ایک خطرہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جا رہی ہے، بھارتی جنتا پارٹی بی جے پی کی حکومت کا نظریہ ہندوتوا کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کے پانچ اگست 2019 کے اقدامات کا مقصد ہندوتوا کے نظریے کو مقبوضہ کشمیر میں پروان چڑھانا ہے ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ مسئلہ کشمیر دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے عالمی امن پر گہرے اثرات مرتب ہونگے ہمیں سوشل میڈیا جیسے طاقتور فورمز کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ دنیا کو اس ماڈرن ڈے ہولوکاسٹ کو روکنے کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دلانا ہوں گے ۔ پاکستانی نژاد آسٹریلین لکھاری حمیرا سعید لغاری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو تمام سیاسی اور سفارتی محاذوں پر ترجیح دی جائے ، کشمیر بھارتی افواج کے مسلسل جبر اور تشدد کے نیچے ہے، عورتوں اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں سیاسی رہنماوں کو قید کرنا، انٹرنیٹ پر پابندیاں اور جبری گمشدگیاں عام ہیں، کالے قوانین کے اطلاق کے ذریعے بھارتی افواج کو ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں میں تحفظ حاصل ہے ، ہمیں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنی چاہیے تاکہ وہاں کے شہری بھی ایک خوشحال زندگی گزار سکیں۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی مقرر بختاور افتخار نے کہا کہ کشمیر پر جنگیں لڑی گئی ہیں اور خون بہا یا گیا ہے، کشمیر کو پچھلے ستر سال سے ظلم اور تشدد کی وادی میں دھکیلا گیا ہے، پیلٹ گنوں کے چھروں سے زخمی آنکھوں کی اپنی ایک الگ کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے حس دشمن کے آگے رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہے ہندومت اور فاشزم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ، دنیا نے بھارتی مارکیٹ کو کشمیریوں کے خون اور زندگی پر ترجیح دی ہے۔قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے مقرر طارق حفیظ نے کہا کہ سرینگر ایک نیا ویسٹ بینک بننے جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر ایک اوپن سکائی پریزن بن چکا ہے، بھارت کشمیریوں کا قتل عام چاہتا ہے۔ حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ہم مقبوضہ کشمیر میں مزید خون کی ہولی نہیں دیکھ سکتے۔ جاپان کی کرسچین یونیورسٹی کے مقرر ثنا خان نے کہا کہ اکیسویں صدی میں 80 لاکھ لوگوں کو قید رکھنا سمجھ سے باہر ہے، نہتے کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سات دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ عالمی حقوق کے علمبردار ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و تشدد پر خاموشی افسوسناک ہے۔ مغربی ممالک انسانی حقوق پر اپنی معیشت کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے موجودہ بھارتی حکومت کو نازی جرمنی سے درست تشبیہ دی ہے، دنیا کو بھی انسانی حقوق اور انصاف پر اپنے دہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا۔ چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے مقرر ویڈان ژو نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ہندوتوا کے نظریے کو اپنا ووٹ بنک محفوظ رکھنے کے لیے خطرناک انداز سے استعمال کر رہی ہے۔ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جارہی ہے، عالمی اور علاقائی امن کے لئے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن محض بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ فاطمہ جناح یونیورسٹی کی مقرر شاذیل سلمان خان نے کہا کہ 27 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کی، بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکاری ہے۔ بھارتی قابض افواج کو سپیشل پاورز ایکٹ کے ذریعے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین سے بھارت کسی بھی شہری کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھ سکتا ہے ۔ خواتین سے زیادتی کو بھارتی افواج نے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں غیر ریاستی افراد کو آباد کیا جا رہا ہے، دنیا بھارت کو نازی جرمنی جیسے فاشسٹ نظریات کی تکمیل سے روکنے میں کردار ادا کرے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی مقرر شمسہ خضر خاکسار نے کہا کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے سری نگر خوف اور آنسوئوں کا شہر بن چکا ہے ، 5 اگست 2019 کو بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کیا، 5 اگست 2019 سے لے کر اب تک 13000 کشمیری نوجوانوں کو اغوا کیا گیا ہے اورکشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی واضح نشاندہی کی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ بی جے پی کی ہندو فاشسٹ پالیسیاں خطے میں بدامنی کے بیج بو رہی ہیں، ہندو انتہا پسند پالیسیز کی وجہ سے بھارت کے بنگلہ دیش، چین اور نیپال سے بھی تعلقات خراب ہو چکے ہیں، بھارت کی ہٹ دھرم پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں ایٹمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ایٹمی تصادم کے خطرے کے پیش نظر دنیا کو مسئلہ کشمیر جلد حل کر انا ہو گا۔ سعودی عرب کے ریاض سکول انٹر نیشنل کی مقرر عمیمہ تنویر نے کہا کہ کشمیری 73 سال سے اپنے حق خود ارادیت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے قبرستان مقبول بٹ اور برہان وانی جیسے نوجوانوں سے بھرے ہوئے ہیں، گیس چیمبرز ہولوکاسٹ اور خوف کی دیگر علامات آج کشمیر کے حالات سے مختلف نہیں ہیں۔ کشمیر کی تاریخ ماورائے عدالت قتل اجتماعی زیادتی تشدد اور اور جبری گمشدگیوں سے بھری ہوئی ہے، مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے فلسفے کو پروان چڑھایا لیکن آج بھارت انتہا پسندی کی طرف راغب ہے، ایل او سی پر لاوا ابل رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، مقبوضہ کشمیر کے حالات پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے مختلف نہیں ہیں، ویٹو پاور کی حامل طاقتیں کشمیر کے حل میں میں رکاوٹ ہیں ، کیا انہوں نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟، کیا بھارت نہرو کے وعدے سے مکر رہا ہے؟ ، کیا بھارت نے مقبوضہ وادی میں آزاد میڈیا کے داخلے کو بند نہیں کر رکھا؟، دنیا کو بھارت سے یہ جواب پوچھنے چاہیئیں۔ مودی نے مقبوضہ وادی میں غیر ریاستی عناصر کو آباد کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے ، پوری دنیا کے سامنے آج بھارت بے نقاب ہو چکا ہے اور بھارتی سیکولرزم اور جمہوریت دفن ہو چکی ہے۔ اگر مشرقی تیمور، کیوبا ، سوڈان اور سکاٹ لینڈ کے مسائل ریفرنڈم سے حل ہوسکتے ہیں تو کشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہو سکتا؟۔ یہی وقت ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے اوپر ٹھوس اقدامات اٹھائے، پاکستان بھارت کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام فورمز پر جواہر لال نہرو کے وعدے یاد کرواتا رہے گا۔ بھارت کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ یہ کینسر اس کے پورے جسم میں پھیل جائے۔ مصر کی مامعہ الازہر کے مقرر محمد شاہد خان نے کہا کہ زمین پر جنت کشمیر ظلم و ستم اور ناانصافی کا نشان بن چکی ہے، بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے۔ نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل اور جھوٹے مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے۔ انیس سو نوے سے لے کر اب تک تقریبا ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بے نقاب کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ، بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر پر عملدرآمد کروائے ۔ مسئلہ کشمیر اپنی تاریخ کے سب سے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ۔ پیرس کی یونیورسٹی آف پینتھن اساس کی مقرر مس ادیارا اوتارا نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کر نے کی کوشش ہے، کرونا وائرس کی وبا نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے کشمیری اور مسلمان افسران کو بھارت نے جان بوجھ کر سائیڈ لائن کر دیا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرکے فلسطین میں اسرائیل جیسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اب بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کو منظور کرنے سے انکاری ہے۔ بین الاقوامی دنیا کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خاتمے کے لئے آواز اٹھانی چاہیے۔ آزاد جموں و کشمیر ویمن یونیورسٹی باغ کی مقرر نرما فردوس نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کروں اور محمد بن قاسم اور محمود غزنوی برصغیر میں قدم رکھیں۔ بھارت کالے قوانین کے اطلاق سے کشمیریوں کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ نریندر مودی ہندو فاشسٹ اور ایک حقیقی دہشت گرد ہے ۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کو ایک حساس مسئلہ قرار دیا ہے، مسئلہ کشمیر کسی علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ایک بین الاقوامی مسلمہ مسئلہ ہے ، بھارت میں ماتا اور گاوماتا کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، مقبوضہ کشمیر پر شدید پابندیاں دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حالات سے بے خبر رکھنے کے لئے ہیں۔ کشمیریوں اور مسلمانوں کی نسل کشی، پاکستان کو معاشی اور سفارتی لحاظ سے محدود کرنا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو پروان چڑھانا بھارت کی موجودہ حکمت عملی ہے۔ مودی نے کشمیر کو نازی جرمنی والے کنسنٹریشن کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے، پاکستان اور کشمیریوں کا جسم اور روح ایک ہیں جن کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ پشاور یونیورسٹی کے مقرر عتیق الرحمان نے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ساز باز کر کے کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا ، قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا اورکشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے جس کے لئے کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کر دیا ہے ، حق خودارادیت کی جدوجہد کرنے والے کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے بھارتی افواج آرمرڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قانون کا استعمال کر رہی ہیں، تاکہ مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت کو تبدیل کرکے اس میں جغرافیائی اعتبار سے تبدیل کرسکیں، 80 لاکھ کشمیری 5 اگست 2019 سے شدید ترین پابندیوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے مقرر محمد عمار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر لمحے اغوا ، خواتین سے زیادتی اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور دنیا نے کشمیریوں کی آہ وپکار سننے کی بجائے اپنے کان بند کر رکھے ہیں۔ دنیا کی عدم توجہ سے مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے خطرناک جگہ بن چکا ہے، فاشسٹ مائنڈ سیٹ نے کشمیر کو نازی دور میں دھکیل دیا ہے۔ آر ایس ایس کا ایجنڈا نہ صرف مسلمانوں کا کشمیر سے بلکہ پورے بھارت سے خاتمہ ہے۔ متاثرہ قوموں کا اقوام متحدہ پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ہونے والے تشدد کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ اٹلی کی یونیورسٹی لیبیرا دیگلی سٹدی کے مقرر مسٹر فیبریزو فرلانی نے کہا کہ نہتے کشمیری عوام گزشتہ ستر سال سے ظلم و جبر کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں، نئی دہلی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑی فوجی چھاونی بن چکی ہے جہاں غیر ریاستی عناصر کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جا رہی ہے۔ غیر ریاستی عناصر کو مقبوضہ علاقوں کی شہریت دینا چوتھے جینوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے، کشمیری نوجوانوں کا بھارت پر اعتبار مکمل ختم ہو چکا ہے ، حق خودارادیت کی عدم دستیابی کے باعث کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایل او سی پر پاکستان اور بھارت کی افواج تعینات ہیں جو کسی لمحے کسی سانحے کو جنم دے سکتی ہیں۔ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے، بھارت مقبوضہ کشمیر پر ہر قسم کی پابندیاں ختم کرے۔ جنوبی افریقہ کی ابادان یونیورسٹی کے مقرر مارٹین الیہیمبی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، گزشتہ ستر سالوں میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ بھارتی انتہا پسندی کو بے نقاب کرنے کے نتیجے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت سے بے دخل کر دیا گیا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دونوں ممالک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔ ایک تجزیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جوہری تصادم سے دنیا کی دو تہائی زراعت متاثر ہو گی۔ جب ایک قوم اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے پر عزم ہوتی ہے تو وہ اس کو حاصل کر کے رہتی ہے۔ اازاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کی مقرر خانسہ شاہ نے کہا مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال دوسری جنگ عظیم سے زیادہ خطرناک ہے، اور اسے اس کے ہزاروں غنڈے ہندوتوا کے نظریے پر عملدرآمد کے لیے نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہے ہیں۔ قومی سلامتی کے نام پر پانچ ماہ کے بچے کو شہید کرنے کا کیا جواز ہے، آسیہ اندرابی اور ناہیدہ نسرین جیسی خواتین کو جیل میں رکھنے کاکیا جواز ہے۔ بین الاقوامی برادری نہتے اور مظلوم کشمیریوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے خاموش کیسے بیٹھ سکتی ہے۔ دنیا کو مذہب اور علاقے سے بے نیاز ہوکر انسانی حقوق کا خیال کرنا ہوگا۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے مقرر علی ثمیق نے کہا کہ سلک روٹ پر واقع ہونے کی وجہ سے کشمیر کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا۔ مسئلہ کشمیر کا حل حکومت پاکستان کے تمام فورمز پر اولین ترجیح رہا ہے، 19سالہ حبا کی آنکھوں کو پیلٹ گن سے چھلنی کردیا گیا اس کا کیا قصور تھا؟۔ کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے پاکستان کشمیریوں کے حقوقِ کے لیے سیاسی، سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور ترکی اور ملائشیا بھی پاکستان کے مسئلہ کشمیر کے موقف کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ بھارت نے 1947 کے نامکمل ایجنڈے کو ظلم و ستم اور خونریزی کا کاروبار بنا دیا گیا ہے ، مظلوم کے لیے آواز نہ اٹھانا جرم ہے۔ انڈونیشیا کے بوگر پرتینین انسٹی ٹیوٹ کے مقرر بینکٹ اسما پترا ہاروین نے کہا کہ جب بھی جموں کشمیر کا نام ذہن میں آتا ہے تو فورا جنگ اور تشدد ذہن میں آتا ہے ، 27 اکتوبر 1947 کو کشمیریوں کو اپنے تمام تر حقوق سے محروم کر دیا گیا ، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈریکونین قوانین کا اطلاق کر رکھا ہے اور نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے بھارتی فوجیوں کو کبھی قانون کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے ایکٹوسٹس کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے، انیس سو چھیانوے میں انسانی حقوق کے وکیل جلیل اندرابی کی لاش دریائے جہلم سے ملی تھی، پیلٹ گنوں کے استعمال سے کئی بچے، بچیاں اور نوجوان اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔ جرمنی کی ہوشولے سالومن الیس برلن یونیورسٹی کی مقرر رکسٹینا رینمیولر نے کہا کہ انیس سو سنتالیس میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کے ذریعے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا، انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا، 2016 میں بھارتی افواج نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کو بے نقاب کیا، کالے قوانین کے ذریعے بھارتی افواج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا ہے۔کورونا وائرس لاک ڈاو¿ن سے مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے جاری لاک ڈاو¿ن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر ایک ایسی دنیا بنانی ہے جہاں ہر ایک کے حقوق محفوظ ہوں۔ بین الاقوامی ورچوئل تقریری مقابلوں کے بہترین مقررین کے انتخاب کے لئے لیفٹننٹ جنرل(ر) طلعت مسعود، ڈاکٹر عمیمہ کامران اور ڈاکٹر صائمہ اے کیانی پر مشتمل تین رکنی جیوری مقرر کی گئیتھی جنہوں نے تفصیلی غوروخوض کے بعد اول دوئم اور سوئم پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا۔ سعودی عرب کے ریاض سکول انٹر نیشنل کی مقرر عمیمہ تنویر اول قرار پائیں، ترکی کی انقرہ یونیورسٹی کی مقرر نیسبی یساس یلدریم نے دوسری پوزیشن حاصل کی، تیسری پوزیشن پر دو مقرر کامیاب ہوئے ان میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایڈن برگ کے مقرر ارقم الحدید اور نمل یونیورسٹی کے مقرر محمد عبداللہ شامل ہیں۔ تقریب کے اختتام پر وفاقی سیکرٹری امور کشمیراعجاز احمد خان نے تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کامیاب امیدواروں کے لئے تعریفی اسناد اور انعامات کا بھی اعلان کیا۔ انہون نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے حوصلہ افزا ہیں، مستقبل میں بھی اس طرح کے مقابلوں کا نعقاد کیا جائے گا تاکہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔








