کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، بھارتی کالے قوانین کے ذریعے غنڈے اور لٹیرے کشمیر میں آباد کئے جا رہے ہیں، سعودی عرب کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے، زلزلے میں سعودی عرب کی خدمات مثالی رہیں، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام جشن آزادی کی مناسبت سے تقریبات سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیرکے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، بھارتی کالے قوانین کے ذریعے غنڈے اور لٹیرے کشمیر میں آباد کئے جا رہے ہیں، سعودی عرب کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے، زلزلے میں سعودی عرب کی خدمات مثالی رہیں، پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، کچھ عناصر کی جانب سے نظریاتی خلفشار پھیلانے کی …

اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیرکے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، بھارتی کالے قوانین کے ذریعے غنڈے اور لٹیرے کشمیر میں آباد کئے جا رہے ہیں، سعودی عرب کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے، زلزلے میں سعودی عرب کی خدمات مثالی رہیں، پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، کچھ عناصر کی جانب سے نظریاتی خلفشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، درس و تدریس کے ادارے نوجوانوں میں اسلامی شعائر کی طرف رغبت پیدا کرنے میں کردار ادا کریں، کشمیریوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے پر او آئی سی کے مشکور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام جشن آزادی کی مناسبت سے ترتیب دی گئی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر پودا لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا جبکہ انہوں نے جشن آزادی کی مناسبت سے جامعہ کی ڈاکٹر حمید اﷲ لائبریری میں منعقدہ کتابوں کی نمائش کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی سمیت قائم مقام صدر جامعہ ڈاکٹر این بی جمانی، نائب صدور ڈاکٹر احمد شجاع سید و ڈاکٹر اقدس نوید ملک کے علاوہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیا الحق، ڈینز، دیگر ذیلی اداروں کے سربراہان اور فیکلٹی ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریبات کی مناسبت سے ”پاکستان کے مستقبل میں شعبہ درس و تدریس کا کردار” کے موضوع پر سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ قیام پاکستان قائداعظم کے عزم صمیم کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے چھینی گئی حکومت انگریز نے ہندو عناصر کے حوالے کرنی چاہی، قیام پاکستان رب کائنات کی ہمارے لئے مدد تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیق ہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت عصر حاضر کے مسائل کا حل ممکن ہے، نوجوان جدید علوم کا مطالعہ کریں۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد فکر عام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ مغرب کی اندھی تقلید کے رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات انقلاب برپا کر سکتی ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ابلاغ کی جنگ لڑنے کا دور ہے اور کسی بھی قوم کو اپنا بیانیہ اقوام عالم تک پہنچانے کے لیے جدید علوم، تغیرات اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے، کشمیر یوں کے حقوق کی سلبی جیسے مسائل اور ان کے حق کی آواز اسی جدید حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈیمیا نوجوانوں میں اسلامی شعائر کی طرف رغبت پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، کشمیر محاصرے میں ہے، نوجوانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، بھارتی کالے قوانین کے ذریعے غنڈے اور لٹیرے کشمیر میں آباد کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ ہمیں ان تقریبات کے موقع پر عہد کرنا چاہئے کہ پاکستان کے قیام کے مقصد کیحصول کے لئے سرگرم رہیں گے جس کو پانے کے لئے ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے اور آج ایک غاصب ملک کی فوج کے ہاتھوں کشمیری عوام محصور ہیں۔ عالمی برادری کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت اور حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بیانیہ کی تشکیل کے لئے اسلامی یونیورسٹی میں کشمیر ڈیسک قائم کیا جائے گا اور جامعہ دیگر جامعات کے ساتھ مل کر بھی اس مقصد کے لیے کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشی استحکام ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے اور اس شعبہ میں کامیابی کے لیے سی پیک جیسے معاہدے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے جیسے حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں۔ اس موقع پر قائمقام صدر جامعہ ڈاکٹر این بی جمانی نے اپنے خطاب میں معاشرے کی تعمیر میں جامعات اور خصوصاً اسلامی یونیورسٹی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ معاشرتی مسائل اور امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل کے حل کے لئے جامعہ اپنی کوششیں تحقیق، مباحثے اور دیگر ذرائع سے جاری رکھے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جشن آزادی تقریبات کے موقع پر پوری قوم کشمیری بھائیوں کے لئے دعا گو ہے اور آج کے دن ہر نوجوان کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ وہ ملک و قوم کی ترقی کو اولین فریضہ سمجھے گا۔ سیمینار سے خطاب میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے کہاکہ قائد کا وژن پاکستانی معاشرے کی تشکیل جدید تھا اور قائد و اقبال کے وژن کی روشنی میں ادارے نے پیغام پاکستان بیانیے کو تشکیل دے کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید خبریں