اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی)پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی نے انتخابی بل 2017 پر دستخط کر دیئے ہیں،اس نئے انتخابی قانون کو آئندہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نئے انتخابی قانون میںالیکشن کمیشن کو مکمل با اختیار بنانے ،ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنے ، قومی اسمبلی کے امیدوار کے لئے انتخابی اخراجات بڑھا کر …
کمیٹی کے چیئرمین سینٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کے ایک سو انیسویں اجلاس میں انتخابی قانون کے مسودے پر دستخط کیے گئے، اجلاس کے بعد وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار اور وزیر قانون زاہد حامد کی بریفنگ
اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی)پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی نے انتخابی بل 2017 پر دستخط کر دیئے ہیں،اس نئے انتخابی قانون کو آئندہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نئے انتخابی قانون میںالیکشن کمیشن کو مکمل با اختیار بنانے ،ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنے ، قومی اسمبلی کے امیدوار کے لئے انتخابی اخراجات بڑھا کر چالیس لاکھ اور صوبائی حلقے کے لئے بیس لاکھ روپے کرنے ، انتخابی عملے کا تقرر الیکشن سے60روز پہلے کرنے اور انتخابی قانون کی پاسداری کا حلف دینے کی پابندی لگائی گئی ہے ۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کا ایک سو انیسواں اجلاس منعقد ہوا جس میں انتخابی قانون کے مسودے پر دستخط کیے گئے۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران آفتاب احمد خان شیرپاﺅ، اعجازالحق، نعیمہ کشورخان، عبدالقادر ودان، ستارہ ایاز، کرنل طاہر حسین مشہدی، ایس اے اقبال قادری، انوشہ رحمن، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، مشاہد اللہ خان، سلیم ضیائ، اور دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار اور وزر قانون زاہد حامد نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے یہ کام اٹھارویں ترمیم سے اگر بڑا نہیں تو کم بھی نہیںانتخابی قوانین کو یکجا کرکے ایک قانون میں ضم کر دیا گیا ہے جسے فوری طورپر قومی اسمبلی اور سینٹ کے آئندہ اجلاسوں میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا ۔









