کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی پزیر ممالک کو ہنگامی مالی اعانت کی ضرروت ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا ای سی او ایس او سی اجلاس سے خطاب

اقوام متحدہ۔2دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب و اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل( ای سی او ایس او سی) کے صدر منیر اکرم نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی پزیر ممالک کو اپنی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے 25 کھرب ڈ الر کی ہنگامی مالی امداد کی ضرروت ہے اور اس مشکل وقت میں بین الاقومی تعاون کی …

اقوام متحدہ۔2دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب و اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل( ای سی او ایس او سی) کے صدر منیر اکرم نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی پزیر ممالک کو اپنی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے 25 کھرب ڈ الر کی ہنگامی مالی امداد کی ضرروت ہے اور اس مشکل وقت میں بین الاقومی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے بدھ کو معاشرتی ترقی کے لیے عالمی سربراہی اجلاس کی 25 ویں سالگرہ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ای سی او ایس او سی کے مشترکہ اعلی سطحی اجلاس میں کہا کہ دنیانے اس وقت ترقی پزیز ممالک کی ہنگامی مالی امداد نہ کی تو متعدد ممالک کو کورونا وائرس کی وبا کے باعث بڑے پیمانے پر خراب ہوتی انسانی صورتحال کی وجہ سے قرضوں کی عدم ادائیگی اور معیشت کی تباہی کا سامنا ہو گا ۔ یہ سربراہی اجلاس 1995 میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگ میں ہوا تھا جس میں عالمی رہنمائوں نے اقتصادی شرح نمو اور معاشرتی ترقی میں توازن پر اتفاق کیا تھا۔ پاکستان مندوب منیر اکرم نے کہا کہ متوازن طرز عمل بین الاقوامی اور قومی پالیسیوں میں رائج ہو رہا ہے اور گزشتہ 25 سالوں میں غربت میں کمی، اعلی تعلیمی معیار، روزگار میں اضافہ، آمدنی میں اضافہ اور دنیا کے لاکھوں لوگوں کی عمروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن کورونا وائرس کے باعث صحت اور اقتصادی بحران اور1930 کی دہائی کی کساد بازاری کے بعد دنیا بھر میں نئی کساد بازاری کا سامنا ہے جس کے باعث 2030 تک پائیدار ترقی کے بین الاقوامی اہداف کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کے باعث 30 کروڑ ملازمتیں ختم ہونے اور تقریباً 10 کروڑ افراد کے انتہائی غربت میں جانے سے عالمی معیشت کے حجم میں 5 فیصد تک کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ غریب ترین ممالک اور غریب اور کمزور لوگ معیشت کی تباہی سے ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ترقی پزیر ممالک کورونا وائرس سے بحالی کے لیے 25 کھرب ڈالر کی امداد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ امیر ممالک نے اپنی معیشتوں کو متحرک کرنے کے لیے 130کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس تناظر میں منیر اکرم نے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی یکساں اور مساوی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ جب تک عالمی سطح پر کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہ ہمیں ترقی پذیر ممالک کو معاشی تباہی سے بچانے کے قابل بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف ،تنظیم نو اور سپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) یعنی اضافی غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی دوبارہ تقسیم کے ذریعہ اضافی لیکویڈیٹی سے ان کی ہنگامی مالی اعانت فراہم کرنا ہوگی ۔ ای سی او ایس او سی کے سربراہ منیر اکرم نےدنیا کی مالی ، تجارتی اورٹیکنالوجی حکومتوں کو زیادہ منصفانہ اور مساوی بنانے پر بھی زور دیا کیونکہ جب تک غریب ممالک کی کورونا وائرس پر قابو پانے اور معاشی نمو کو بحال کرنے میں مدد نہیں کی جاتی ہے اس وقت تک دنیا کورونا وائرس، کساد بازاری اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درپیش حقیقی خطرہ جیسے تہرے چیلنج پر قابو پانے میں ناکام رہے گی