کورونا وائرس کے عالمی معیشت پر اثرات عارضی ، صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

واشنگٹن ۔ 21 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف )نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ شدید ہونے کے باوجود عالمی معیشت پر اس کے اثرات عارضی نوعیت کے ہوں گے،اس وباءکے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار آئی ایم ایف کے شعبہ فنڈ سٹریٹجی و ریویو کے سربراہ …

واشنگٹن ۔ 21 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف )نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ شدید ہونے کے باوجود عالمی معیشت پر اس کے اثرات عارضی نوعیت کے ہوں گے،اس وباءکے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار آئی ایم ایف کے شعبہ فنڈ سٹریٹجی و ریویو کے سربراہ مارٹن موہلیسن نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کیا۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے لیکن ان سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکومتوں یا مرکزی بینکوں کو مربوط اقدامات کرنے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کورونا بحران کا شکار ہوچکے لیکن عالمی معیشت پر اس کا بہت کم اثر پڑا ہے جس کی وجہ مستحکم معیشت اور روزگار کی نسبتاً بہتر شرح ہے، توقع ہے کہ آئندہ ماہ تک اس سے بچ نکلنے میں کامیاب رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ بحران ایسے وقت آیا جب ہم اس طرح کے جھٹکے کے قابل ہوچکے ہیں،اس کے اثرات عالمی معیشت پر یقینی طور پر سخت ہوں گے تاہم امید ہے کہ ہم آئندہ ماہ تک اس سے نکلنے کا راستہ نکال لیں گے۔مارٹن موہلیسن نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتوں اور مرکزی بینکوں نے کورونا سے متاثرہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ واسطے قابل قدر مالی و دیگر اقدامات اٹھائے ہیں جن سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کو زیادہ قابل عمل بنانے کے لیے حکومتوں اور ان کے مرکزی بینکوں کو باہم مربوط اقدامات اٹھانے ہوں گے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میںکورونا وائرس کے نتیجے میں اب تک اڑھائی لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر جبکہ 11 ہزار سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں۔