اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ کورونا کی شکل میں قوم کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں قیام پاکستان کے جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے، صوبوں کو جزوی لاک ڈائون کا آپشن دیا گیا لیکن اس کا مطلب زبردستی عوام کو گھروں تک محدود کرنانہیں، سندھ کے حوالے سے لاک ڈائون کے ضمن …
کورونا کی شکل میں قوم کو درپیش چیلینج سے نمٹنے کیلئے ہمیں قیام پاکستان کے جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے، اپنے آپ کوخودساختہ قرنطینہ میں رکھ کر بیرون ملک جانے والے کورونا پر سیاست اور سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں، اس وقت وسیع تر قومی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ کورونا کی شکل میں قوم کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں قیام پاکستان کے جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے، صوبوں کو جزوی لاک ڈائون کا آپشن دیا گیا لیکن اس کا مطلب زبردستی عوام کو گھروں تک محدود کرنانہیں، سندھ کے حوالے سے لاک ڈائون کے ضمن میں نقطہ نظر سے وفاقی حکومت اتفاق نہیں کرتی ، ہم عوام کو رضا کارانہ طور پر شامل کر کے کورونا کے خلاف جنگ جیتنے پر یقین رکھتے ہیں ، ڈنڈے کے زور پر اس طرح کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ممکن نہیں ہے، اپنے آپ کوخودساختہ قرنطینہ میں رکھ کر بیرون ملک جانے والے کورونا پر سیاست اور سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں، اس وقت وسیع تر قومی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے ، عوام کا تحفظ ، سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے، قومی چیلنج سے نمٹنے کے اس دور میں سیاسی خواہشات ، مفادات اور ایجنڈا کو قرنطینہ میں ڈال کر سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔پیر کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کل وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے بعد مختلف سیاسی رہنمائوں ، سماجی لیڈر شپ اور میڈیا کے تجزیہ کاروں کی جو رائے سامنے آئی ہیں ان میں اکثریت کا محور سوچ اور بیانیہ تھا کہ پاکستان کو لاک ڈائون کی طرف جانا چاہئے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کل اپنے خطاب میں قوم کے سامنے لاک ڈائون کی واضح تفہیم و وضاحت پیش کی تھی ، لاک ڈائون میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے عوام کو گھروں میں محدود کیا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ سے 144اے کے تحت سمری موو کروائی ہے ، آرٹیکل 245کے تحت صوبوں کو اختیار ہے کہ ضرورت پڑنے پر جس وقت چاہئیں حالات واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج طلب کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس سمری کی منظوری دی ہے اور اسے کابینہ کو بھیج دیا ہے۔ صوبوں کو جزوی لاک ڈائون کا آپشن دیا گیا لیکن اس مطلب زبردستی عوام کو گھروں تک محدود کرنا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے حوالے سے لاک ڈائون کے ضمن میں ایک نقط نظر بیان کیا جا رہا ہے ۔ وفاقی حکومت اس سے اتفاق نہیں کرتی ، ہم عوام کو رضا کارانہ طور پر شامل کر کے کورونا کے خلاف جنگ جیتنے پر یقین رکھتے ہیں ، ڈنڈے کے زور پر اس طرح کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ممکن نہیں ہے ۔ کورونا کے خلاف جنگ میں عوام ہراول دستہ ہے ۔ عوام کی مرضی و منشاء کو نظر انداز کر کے اسطرح کی جنگ جیتی جا سکتی اور نہ ہی کامیابی مل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان عوام کو حقوق کی فراہمی کیلئے پر عزم ہیں ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں عوام کیلئے ذمہ داری اور درد کا احساس کیا ہے۔ وزیر اعظم نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر ذمہ داری کا ثبوت دیں ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ، اسلام آباد انتظامیہ اور چاروں صوبوں کی طرف سے جو ریکوزیشن آئی تھی وزیر اعظم نے وہ کابینہ کو بھیجی ہے جس کو جلد نوٹیفائی کیا جائے گا ۔ صوبوں کو اختیار دیں گے کہ وہ جو لائحہ عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ متحدہ قومی مومنٹ حکومت کی اہم اتحادی ہے ، کورونا کی شکل میں قومی چیلنج کو شکست دینے میں ہم ایم کیو ایم کو دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے پر خراج تحسین پیش کرتے اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ کورونا ایک ایسا قومی ایشو ہے جسے شکست دینے کیلئے ہم نے ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اس وقت جو چیلنج درپیش ہے اس میں بعض سیاسی رہنماء الزام تراشیاں کر رہے ہیں ان سے اپیل ہے کہ آپ عوام کو لاک آپ میں ڈال کر خود باہر آنا چاہتے ہیں ۔ ان رہنمائوں میں بیشتر وہ ہیں جو اپنے آپ کو پہلے سے خودساختہ قرنطینہ میں رکھ کر بیرون ملک چلے گئے تھے، کورونا پر سیاست کرنا اور سیاسی دکانداری چمکانا احسن عمل نہیں ہے۔ حکومت درست سمت میں تمام تجاویز اورآراء کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اذیت کا باعث بنے گی ، اس وقت وسیع تر قومی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے ، عوام کا تحفظ ، سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ قومی چیلنج سے نمٹنے کے اس دور میں سیاسی خواہشات ، مفادات اور ایجنڈا کو قرنطینہ میں ڈال کر سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ذات پر تنقید سے بہتری نہیں آئے گی۔ وزیر اعظم اس وقت قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں ، وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ ملکر مشاورت سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ شہباز شریف سیاسی محاذ پر نقب زنی کر کے مخصوص بیانیہ پیش چاہتے ہیں جس کی حوصلہ شکنی رنی چاہئے۔








