لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):ڈی جی فوڈاتھارٹی عاصم جاوید نے کہا ہے کہ کھیت سے پلیٹ تک محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کا مشن جاری ہے، وزیراعلی پنجاب کی ہدایات پر سال 2025میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے غذائی دہشتگردوں کو ٹف ٹائم دیا گیا،رواں سال ابتک 13لاکھ 50ہزار فوڈ پوائنٹس اور یونٹس کی چیکنگ کرتے ہوئے4ہزار 355یونٹس اور فوڈ پوائنٹس اصلاح تک بند کیے گئے اورجعلسازی کا …
کھیت سے پلیٹ تک محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کا مشن جاری ہے، ڈی جی فوڈ اتھارٹی
لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):ڈی جی فوڈاتھارٹی عاصم جاوید نے کہا ہے کہ کھیت سے پلیٹ تک محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کا مشن جاری ہے، وزیراعلی پنجاب کی ہدایات پر سال 2025میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے غذائی دہشتگردوں کو ٹف ٹائم دیا گیا،رواں سال ابتک 13لاکھ 50ہزار فوڈ پوائنٹس اور یونٹس کی چیکنگ کرتے ہوئے4ہزار 355یونٹس اور فوڈ پوائنٹس اصلاح تک بند کیے گئے اورجعلسازی کا مکروہ دھندہ کرنے پر 2ہزار 599مقدمات درج کروائے گئی جبکہ1لاکھ 23ہزار 297 فوڈ بزنسز کو 1.65بلین سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے،مارکیٹ میں سپلائی ہونے والی مختلف اشیا خورونوش کے 28ہزار 978سیمپل لیبارٹری جانچ کے لیے بھجوائے گئے،3لاکھ 58ہزار287کلو ناقص گھی، 2لاکھ83ہزار200لیٹر سے زائد جعلی بوتلیں بیورجز،2 لاکھ53ہزار938لیٹر ناقص بوٹل واٹر،65ہزار625کلو مصالحہ جات،16ہزار کلو ناقص دالیں کردی گئیں۔
ڈی جی فوڈاتھارٹی عاصم جاوید نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دودھ میں ملاوٹ اور جعلسازی کی روک تھام کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سال 2025میں تاریخی اقدامات کیے، 6لاکھ 09ہزار 876ڈیری شاپس، کولیکشن سنٹرز اور سپلائرز کی چیکنگ کی گئی،پنجاب بھر میں 309ملین لٹر دودھ کی چیکنگ؛ 2.69ملین لٹر جعلی و ناقص دودھ تلف کیا گیا، دودھ میں جعلسازی پر 1ہزار 163مقدمات درج اور 642یونٹ بند کیے گئے،ناقص دودھ کی فروخت پر 38ہزار 986ملک بزنسز کو 348ملین کے جرمانے عائد کیے گئے،جعلی دودھ مافیا کے 10بڑے نیٹورکس توڑے گئے؛ 200سے زائد سپلائر ٹینکر پکڑے گئے، دودھ کی چیکنگ میں ریکارڈ اضافہ کی نسبت تلف کی شرح میں واضح کمی جبکہ معیار میں بہتری آئی ہے،فارم سے صارف تک بین الاقوامی بیسٹ پریکٹسز کو اپناتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیمیں جانفشانی کیساتھ کڑی نگرانی کررہی ہیں،دودھ گوشت گھی اور بنیادی اشیا خورونوش کی ٹریسیبیلٹی کے لیے ایس و پیز وضح کر دئیے گئے ہیں۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ملاوٹ مافیا کے خلاف آپریشنز سے کسان کو براہ راست فائدہ ہوا،جعلی دودھ کا دھندہ کرنے والوں کی وجہ سے کسان کو دودھ سپلائرز اور گوالوں کو مجبورا کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا تھا،خالص دودھ کی مانگ میں اضافے سے کسان کودودھ کی اچھی قیمت ملنے لگی۔ انہوں نے بتایا کہ گوشت کے معیار کو بہتر سے بہترین بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے رات گئے،علی الصبح مشکل آپریشنز کیے، رواں سال 98ہزار 905میٹ شاپس، سپلائر گودام اور پروسیسنگ یونٹس کی چیکنگ کی گئی، 24.6ملین کلو گوشت چیک،1.1ملین ناقص کلو گوشت تلف کیا گیا،جعلسازی پر 528مقدمات درج؛ 321یونٹ بند کیے گئے،10ہزار 612 گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو 100ملین سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے،صوبہ بھر میں ڈبہ بند دودھ تیار کرنے والی فیکٹریوں کی چیکنگ اور سیمپلنگ کی گئی،لاہور میں مختلف پوائنٹس پر فری ملک ٹیسٹنگ کا آغاز کیا گیا۔
عاصم جاویدنے مزید بتایاکہ ابتک مفت 4ہزار 251فوڈ ہینڈلرز کو ٹریننگ اور 3ہزار سے زائد کے میڈیکل کیے گئے،رواں سال ابتک 1لاکھ23ہزار 747فوڈ پوائنٹس کو نئے لائسنس جاری کیے گئے، فوڈ بزنس فسیلیٹیشن سنٹر میں 13ہزار 163 فوڈبزنسز کو مکمل رہنمائی فراہم کی گئی، 3لاکھ30ہزار فوڈ ہینڈلرز کو فوڈسیفٹی لیول1اور 2 کی ٹریننگ دی گئی، رواں سال ابتک 51ہزار 455فوڈ ہینڈلرز کے میڈیکل کیے، 51ہزار 384کے میڈیکل پاس ہونے پر سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے،اب تک 89ہزار867سیمپل ٹیسٹ کیے گئے: 46ہزار 837پاس اور 40ہزار 30سیمپل فیل قرار دئیے گئے،پنجاب فوڈ اتھارٹی کا سٹیٹ آف دی آرٹ سکول نیوٹریشن پروگرام فیز 2 بھی جاری ہے،70سرکاری سکولوں کے 20ہزار بچوں کو 480کیلوریز پر مشتمل صحت بخش کھانا فراہم کیا جارہا ہے، خواتین کی بہتر صحت کے لیے ایٹ سیف وومین پروگرام اور الیکٹرانک لرننگ مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کروایا گیا،رواں سال الیکٹرانک لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے تحت30ہزار گھریلو خواتین کو فوڈ سیفٹی ٹریننگ دی گئی،پنجاب کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں فوڈ لیب کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے،
گوشت پانی اور دودھ کے معیار اور ٹریسیبیلٹی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی طرز پر جدید ایس او پیز وضح کیے گئے، کمرشل اور سرکاری فلٹر پلانٹس کے لیے آن لائن پورٹل متعارف جبکہ ہر ماہ فلٹرز تبدیلی ویڈیو اپلوڈ کرنا لازم قراردیا گیا ہے،بوٹل واٹر کی منظور شدہ لیبارٹری سے ماہانہ ٹیسٹنگ رپورٹ بھی لازم قرار دی گئی ہے،گوشت کے بہتر معیار کے لیے میٹ سیفٹی ٹاسک فورس اور دودھ کی ٹریسیبلٹی کے لیے ڈیری سیفٹی ٹیمیں فعال کی گئی، آئل گھی کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے الگ ونگ قائم کیا گیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات پر فوڈ فراڈ مافیا کے خاتمے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔









