کھیل، ثقافت اور مضبوط جمہوری ادارے متوازن اور پْرامن معاشرے کی بنیاد ہیں، سپیکر پنجاب اسمبلی

فیصل آباد۔ 12 فروری (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ کھیل، ثقافت اور مضبوط جمہوری ادارے ایک متوازن اور پْرامن معاشرے کی بنیاد ہیں،نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سپیرئیر یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس میں پنجابی کلچرل فیسٹیول کے تحت منعقدہ ثقافتی میلے کے افتتاح کے موقع پر میڈیا …

فیصل آباد۔ 12 فروری (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ کھیل، ثقافت اور مضبوط جمہوری ادارے ایک متوازن اور پْرامن معاشرے کی بنیاد ہیں،نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سپیرئیر یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس میں پنجابی کلچرل فیسٹیول کے تحت منعقدہ ثقافتی میلے کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری اور پرائیویٹ شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھے تو نہ صرف کھیلوں کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو تعمیری راستہ بھی میسر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے پنجاب میں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رواں سال کو ”یوتھ ایئر“ قرار دے کر نوجوانوں کو قومی دھارے میں متحرک کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس پر کی جانے والی سرمایہ کاری درحقیقت مستقبل پر سرمایہ کاری ہے کیونکہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں پر بھی بھرپور توجہ دیں کیونکہ سکولوں اور جامعات میں ہی بچوں کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپورٹس سکل ڈویلپمنٹ کے لیے ناگزیر ہیں اور نجی شعبہ اس ضمن میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ میچ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام اس مقابلے کو جذباتی انداز میں دیکھتے ہیں، تاہم کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سےمیچ کھیلنے کا فیصلہ مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل باہمی رابطوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

9 مئی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ شہدا کی یادگاروں اور فوجی تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عام نوعیت کے مقدمات نہیں بلکہ خصوصی نوعیت کے کیسز ہیں جنہیں سیاست کی آڑ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو فوج پر تنقید یا قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے کا حق حاصل نہیں کیونکہ پاک فوج دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاست دان ہیں اور ان کے تحفظات دور کیے جانے چاہئیں، تاہم 9 مئی کے معاملے پر مذاکرات کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 سال سے مقامی حکومتوں کا نہ ہونا ایک افسوسناک امر ہے۔ جس طرح وفاقی اور صوبائی حکومتیں ضروری ہیں اسی طرح مضبوط بلدیاتی نظام بھی ناگزیر ہے، حتیٰ کہ آئین میں تیسری سطح کی حکومت کے واضح فریم ورک پر غور ہونا چاہیے۔

انہوں نے دہشتگردی کو ملک کے لئے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی سرحد کی صورتحال اور داخلی خطرات کے تناظر میں پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اتحاد و یکجہتی ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکال سکتی ہے۔