کے الیکٹرک کو 650 کے بجائے 800میگا واٹ تک دے رہے ہیں۔وفاقی وزیر عمر ایوب

کراچی۔3 جولائی(اے پی پی) اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کی جائے،وفاقی حکومت کے اداروں سے صوبہ کے عوام کی توقعات ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گورنر ہاﺅس میں منعقدہ اعلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ، سعید آفریدی، خواجہ …

کراچی۔3 جولائی(اے پی پی) اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کی جائے،وفاقی حکومت کے اداروں سے صوبہ کے عوام کی توقعات ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گورنر ہاﺅس میں منعقدہ اعلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ، سعید آفریدی، خواجہ اظہار، نصرت سحر عباسی وفاقی سیکریٹری توانائی عمر رسول، کے الیکٹرک کے سی ای او مونس عبداللہ علوی، حیسکو اور سیپکو کے حکام اور دیگر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنے حلقوں میں لوڈشیڈنگ کی شکایات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حلقوں میں بارہ سے پندرہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،صوبہ کے مختلف اضلاع میں پندرہ سال سے بدعنوان افسران کی اجارہ داری ہے، ان افسران کو صوبائی حکومت کی مدد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کے الیکٹرک نے اپنے ٹیرف میں کمی نہ کی،اوور بلنگ عام ہو چکی ہے جس سے شہری شدید پریشان ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ صوبہ بھر سے شکایات موصول ہو رہی ہیں،عوام کی شکایات کا ازالہ کیا جائے،محکمے میں موجود بدعنوان افسران کے خلاف انکوائری کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹر ک نے 48 گھنٹوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعوی کیا تھا جو پورا نہیں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر عمر ایوب نے سیپکو اور حیسکو حکام کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کا ازالہ سات دن میں کیا جائے،ہم کے الیکٹرک کو 650 کے بجائے 800میگا واٹ تک دے رہے ہیں،اس کے علاوہ کے الیکٹرک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی کے بجائے 250 سے 280 ایم ایم سی ایف ڈی تک گیس بھی فراہم کی جارہی ہے،کے الیکٹرک کو فرنس آئل فراہمی میں کوئی کمی نہیں، کے الیکٹرک شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالہ کو یقینی بنائے۔عمر ایوب نے کہا کہ جلد سندھ کا دورہ کرونگا ،شکایات کی مانیٹرنگ گورنر ھاﺅس سے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی نظام میں مرمتی کام پر پیسے نہیں لیے جا سکتے،پیسے لینے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،کچھ افسران کی انفرادی طور پر انکوائری کی جا رہی ہے۔