گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کی تعداد میں 1604اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 112کا اضافہ ہوا ہے ،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کی تعداد میں 1604اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 112کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد 5649ہو گئی ہے، وائرس سے ملک میں اب تک 3اموات ہو چکی ہیں، حکومت نے کلوروکوئین میں …

اسلام آباد ۔ 22 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کی تعداد میں 1604اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 112کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد 5649ہو گئی ہے، وائرس سے ملک میں اب تک 3اموات ہو چکی ہیں، حکومت نے کلوروکوئین میں استعمال ہونے والے خام مال کی برآمد اور اندرون ملک ڈاکٹر کے نسخے کے بغیرفروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔کورونا وائرس کے علاج کے لئے5ہزار ڈاکٹروں کو خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اتوار کو یہاں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورانا وائرس کے مشتبہ کیسز کی تعداد میں 1604کا اضافہ ہوا ہے جس میں مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد 5649ہو گئی ہے، مشتبہ کیسز کی کیٹیگری میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا ہو یا سفر کرنے والے لوگوں سے رابطے میں رہے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کورونا وائرس کی کنفرم کیسز کی تعداد 640ہو گئی ہے اور گزشتہ 24گھنٹوں میں اس میں 112کا اضافہ ہوا ہے، پنجاب میں کورونا وائرس کے 152، سندھ میں 292، خیبرپختونخوا 38، بلوچستان 55، آزاد جموں و کشمیر 1 اور اسلام آباد میں 11مریض ہیں۔ کورونا وائرس سے اب تک صرف 3افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 188ممالک میں مریضوں کی تعداد 3لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک عالمی سطح پر اس بیماری سے 13ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم امید کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 95ہزار لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی کلوروکوئین میں استعمال ہونے والے خام مال کی برآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اسی طرح اندرون ملک ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر اس دوائی کی فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے اور اس سلسلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ضروری ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ ملک میں کلوروکوئین اور کورونا وائرس کی علامات میں استعمال ہونے والی ادویات کا سٹاک موجود ہے، حکومت کی صورتحال پر پوری نظر ہے تاہم ڈاکٹر ظفر مرزا نے وضاحت کی کہ ابھی تک جو معلوم حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق کلوروکوئین کے کورونا وائرس کی بیماری میں مفید ہونے کے حوالے سے ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ دنیا میں اس بیماری کی علامات کے علاج کے لئے اس دوا کے بعض صورتوں میں موثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے تمام معلومات حاصل کر لی ہیں۔ متعددی امراض کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور ماہرین پر مشتمل ایک گروپ بنایا گیا ہے جو ایک دو روز میں اس بیماری کی علامات میں کلوروکین کی مقدار اور استعمال کے عرصے کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے علاج کے لئے ملک بھر میں 5ہزار ڈاکٹروں کا کریش کورس کرانے کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں تمام تر تفصیلات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ آئندہ چند روز میں یہ تربیت شروع ہو جائے گی، یہ پہلا مرحلہ ہو گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے ایک ڈاکٹر کے کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے کی افواہوں پر انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹرشدید بیمار ہیں، ان کا علاج جاری ہے، ہماری دوائیں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو کورونا وائرس سے متعلق رپورٹیں انتہائی محتاط طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ہم روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ دے رہے ہیں، ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کی ویب سائٹ پر خصوصی پلیٹ فارم covid.gov.pk قائم کیا گیا ہے جہاں سے اب روزانہ بلکہ ہر گھنٹے بعد تازہ ترین اپ ڈیٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سماجی دوری اختیار کرنے کو اپنا شعار بنائیں۔ غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، باہر نکلنا پڑے تو ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں، میل ملاپ کے طریقوں میں تبدیلی لائیں، ایک دوسرے کے درمیان دومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں اور بار بار صابن سے 20سیکنڈ تک ہاتھ دھوتے رہیں، علامات کی صورت میں گھر پر رہیں اور اپنے آپ کو گھر کے دوسرے لوگوں سے علیحدہ رکھتے ہوئے ہیلپ لائن 1166پر رابطہ کریں جہاں سے انہیں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے اس موقع پر کہا کہ بین الاقوامی پروازوں پر پابندی 4اپریل تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پابندی کے اعلان کے بعد پاکستان کے بعض مسافر متحدہ عرب امارات، قطر، تھائی لینڈ اور ترکی میں ہیں۔ یہ وہ مسافر تھے جو ٹرانزٹ میں تھے۔ پاکستانی سفارتخانے ایسے مسافروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں سے وہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ فی الوقت اپنے سفر کا آغاز نہ کریں۔ ٹرانزٹ میں رہنے والے مسافر متعلقہ ممالک کے قوانین کی پاسداری کریں۔ حکومت پابندی اٹھانے پر ائرپورٹوں پر خصوصی سکریننگ کرے گی جس کا مقصد شہریوں کو محفوظ کرنا ہے۔