فیصل آباد۔ 31 اکتوبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا کہ گندم کا بیج ہر2 سال بعد تبدیل کیا جانا چاہئے جبکہ ماہرین عمرانیات کے ذریعے بھرپورپیداوار کی حامل ورائٹیوں کے حوالے سے سروے کروانے کی بھی ضرورت ہے جس سے ترقی پسند کاشتکاروں کی ترجیحی ورائٹی کو عام کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ گندم کی کاشت کا موزوں وقت یکم نومبرسے20نومبرتک ہے تاہم اسے 10دسمبر تک …
گندم کا بیج ہر 2سال بعد تبدیل کیا جانا چاہئے، ماہرین زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 31 اکتوبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا کہ گندم کا بیج ہر2 سال بعد تبدیل کیا جانا چاہئے جبکہ ماہرین عمرانیات کے ذریعے بھرپورپیداوار کی حامل ورائٹیوں کے حوالے سے سروے کروانے کی بھی ضرورت ہے جس سے ترقی پسند کاشتکاروں کی ترجیحی ورائٹی کو عام کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ گندم کی کاشت کا موزوں وقت یکم نومبرسے20نومبرتک ہے تاہم اسے 10دسمبر تک بھی کاشت کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالامال کیا ہے مگر بدقسمتی سے ہم ان کا ہوش مندانہ استعمال نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت کو نفع بخش کاروبار بنانے کیلئے جدید رحجانات کو اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس سے نہ صرف فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ تخفیف غربت بھی ممکن ہو پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں اسلئے اگر ہم گندم اور مکئی کی آمیزش سے آٹا تیار کریں تو اس سے غذائی معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت کو منافع بخش شعبہ وفوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے تاکہ نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کیساتھ ساتھ معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ماہرین،کاشتکار اور سائنسدان فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے مربوط کاوشیں بروئے کار لارہے ہیں۔
انہوں نے زرعی جامعہ کو زراعت کا ہیڈکوارٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کے زرعی سائنسدانوں نے زراعت کی ترقی کیلئے بے پناہ خدمات سرانجام دی ہیں اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ آنیوالے سالوں میں زراعت کو درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے میں وہ اپنامزید بھرپور کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو سستے داموں زرعی مداخل کی فراہمی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔








