فیصل آباد۔ 04 نومبر (اے پی پی):ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کہا ہے کہ گندم کے پودے کی بہتر نشو و نما اور فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے عمدہ نکاسی کی حامل بھاری میرا سے ہلکی میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ کافی مقدار میں ہو موزوں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی اچھی تیاری بھی گندم پیداوار میں اضافہ کے لئے اہم …
گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے لئے عمدہ نکاسی کی حامل بھاری میرا سے ہلکی میرا زمین موزوں ہے،ماہرین

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 04 نومبر (اے پی پی):ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کہا ہے کہ گندم کے پودے کی بہتر نشو و نما اور فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے عمدہ نکاسی کی حامل بھاری میرا سے ہلکی میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ کافی مقدار میں ہو موزوں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی اچھی تیاری بھی گندم پیداوار میں اضافہ کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کےلئے زمین کی تیاری اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہے جب گندم کےلئے منتخب کئے گئے کھیتوں میں مون سون کے دوران گہرا ہل چلایا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بارانی علاقوں میں پیداوار کم ہونے کی ایک بڑی وجہ زمینوں کا ہموار نہ ہونا ہے اس لئے گہرے ہل کے بعد سہاگہ کی مدد سے کھیتوں کی سطح کو اچھی طرح ہموار کیا جائے اور کھیت کے کونوں اور کناروں کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہموار کھیت میں پانی اور کھاد کی تقسیم پورے کھیت میں یکساں طور سے ہو نا اورگندم کی بھر پور پیداوار کےلئے کاشت کے وقت کھیت کی سطح کا نرم، بھر بھرا، ہموار اور جڑی بوٹیوں سے پاک ہونابھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکارگندم کی بمپر کراپ کے حصول کےلئے ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کے عملے کی خدمات سے استفادہ یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سمیت ڈویژن کے دیگر علاقوں میں صرف 3مرتبہ پانی دے کر بہترین پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے تاہم سیلاب سے متاثرہ و بارش والے علاقوں میں فصل کی حالت دیکھ کر آبپاشی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ گندم کو پہلا پانی شگوفہ نکلنے سے پہلے یعنی 20 سے25دن بعد لگایاجائے جبکہ دوسراپانی گوبھ کی حالت میں یعنی فصل اگنے کے 80 سے90دن بعد لگانا ضروری ہے اور تیسرا پانی دانے کی دودھیا حالت میں یعنی 125 سے130دن بعد لگایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار سیلاب، زیادہ بارشی اور چاول والے رقبے میں پہلاپانی 30سے40دن کے وقفہ سے لگاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایاکہ سیلابسے متاثرہ و زیادہ بارش والے علاقوں میں پانی فصل کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے لگایاجائے اور اگر موسم کچھ گرم ہو تو پہلے یا دوسرے اور تیسرے پانی کے درمیانی وقفہ میں حسب ضرورت ایک ایک پانی کااضافہ بھی کیاجاسکتاہے۔








