فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت ملک میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار 7 سے 8 من فی ایکڑ تھی جو60کی دہائی میں سبزانقلاب اور چھوٹے قد کی ورائٹی کے باعث بڑھ کر دو گنا ہو گئی، تاہم زرعی ماہرین و زرعی سائنسدانوں کی شبانہ روز محنتوں کی وجہ سے اب پاکستان میں 28سے30من فی ایکڑسے …
گندم کی چھوٹے قد کی ورائٹیوں کے باعث اس کی پیداوار میں اضافہ ہو گیا

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت ملک میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار 7 سے 8 من فی ایکڑ تھی جو60کی دہائی میں سبزانقلاب اور چھوٹے قد کی ورائٹی کے باعث بڑھ کر دو گنا ہو گئی، تاہم زرعی ماہرین و زرعی سائنسدانوں کی شبانہ روز محنتوں کی وجہ سے اب پاکستان میں 28سے30من فی ایکڑسے بھی زائد اوسط پیداوار حاصل کی جا رہی ہے جبکہ زمینی وسائل اور پیداواری استعداد کے لحاظ سے اوسط پیداوار70سے80من فی ایکڑ تک حاصل کی جا سکتی ہے لہٰذا اس پیداواری فرق کو پورا کرنے کیلئے ماہرین نباتات کو وائرس اور دیگر امراض سے فصلات کو بچاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہو گی۔
انہوں نے بتایاکہ یو جی 99 ہماری غذائی پیداوار کیلئے خطرہ بن کر سامنے آئی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ماہرین نباتات کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی، فضائی اور آبی ذرائع سے فصلوں کو پہنچنے والے جراثیموں اور وائرس کی روک تھام کیلئے دنیا میں مروج جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستانی صورتحال کے مطابق کرنے کیلئے لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں مائیکروبیالوجی، بائیوٹیکنالوجی اور پلانٹ پتھالوجی کے باہمی امتزاج سے فصلات کی پیداواریت بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے مائیکروبیالوجی کی کثیرالجہت ڈگری کا اجرا کیا ہے تاکہ مختلف شعبوں کے امتزاج سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔








