گنے کی فصل مسلسل بدلتے ہوئے موسمی تغیرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن

لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کچھ حلقے یہ مضحکہ خیز بیانیہ تیار کر رہے ہیں کہ ملک کی چینی کی ضروریات اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود مسلسل درآمدات سے پوری ہو سکتی ہے اور گنے کی فصل کی پیداوار میں لگائے گئے وسائل کو کسی خاص فصل پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ گنا ملک کی ایک اہم فصل …

لاہور۔30دسمبر (اے پی پی):پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کچھ حلقے یہ مضحکہ خیز بیانیہ تیار کر رہے ہیں کہ ملک کی چینی کی ضروریات اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود مسلسل درآمدات سے پوری ہو سکتی ہے اور گنے کی فصل کی پیداوار میں لگائے گئے وسائل کو کسی خاص فصل پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ گنا ملک کی ایک اہم فصل ہے جو مسلسل بدلتے ہوئے موسمی تغیرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں کپاس سمیت بہت سی دوسری فصلیں زیادہ نازک ہیں، جو سیلاب، گلوبل وارمنگ اور بیماریوں کے دبا ئوکو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ گنا کسانوں کیلئے مالی اورموسمی دونوں لحاظ سے سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ فصل ہے۔

مزیدیہ کہ کاشتکار خود گنے کو اپنی سرکردہ فصل کے طور پر اور اس کے قابل بھروسہ ہونے کی وجہ سے ترجیح دے رہے ہیں۔پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑا گنے سے چینی پیدا کرنے والا ملک ہے اور پاکستان کی شوگر انڈسٹری ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی زرعی صنعت ہے جو ہماری قومی معیشت کو 4 بلین امریکی ڈالر کا درآمدی متبادل فراہم کرتی ہے۔ کرشنگ سیزن کے دوران چینی کی صنعت زراعت، ٹرانسپورٹ، اتحادی صنعت، ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں 1000بلین روپوں کی براہ راست اور بالواسطہ کاروباری سرگرمیاں پیدا کرتی ہے۔ یہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کی مد میں تقریبا 225 ارب روپے ادا کرتی ہے۔

اس صنعت میں ایک لاکھ سے زیادہ افرادی قوت کام کرتی ہے جبکہ دیہی آبادی کے 90لاکھ سے زیادہ لوگ گنے کی پیداوار سے وابستہ ہیں۔شوگر انڈسٹری بیگاس کے ذریعے اپنی پیدا کردہ توانائی کو بروئے کار لاتی ہے جس کے ذریعے اسٹیل کی ایک الائیڈ انڈسٹری بھی قائم کی گئی ہے اور یہ پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو بھی برآمد کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سازگار پالیسی بنا کر گنے کی ذیلی مصنوعات کو استعمال کرنے والی منسلک صنعتیں قائم کی جا سکتی ہیں جیسا کہ بہت سے دوسرے ممالک میں ہوا ہے۔

برازیل اور بھارت کی طرح گاڑیوں میں ایتھانول کا ایندھن کے طور پر استعمال ہمارے قومی توانائی کے سسٹم کو مضبوط بنا سکتا ہے جس کا بہت زیادہ انحصار پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ڈی ریگولیشن پالیسی کو جلد از جلدنافذ کرنا چاہیے جو کسانوں اور شوگر انڈسٹری دونوں کیلئے فائدہ مند ہو گی۔