ہم صوبوں سے الگ نہیں ہیں اور صوبے ہم سے الگ نہیں ہیں، ہمیں ایک قومی پالیسی کو اپنانا ہے، مخدوم شاہ محمودقریشی

ملتان ۔22 مارچ (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تمام صوبوں سے گزارش ہے کہ وہ الگ الگ فیصلے کرنے کی بجائے اپنی اپنی تجاویز نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے سامنے رکھیں جو اچھی اور قابل عمل تجاویز ہوںگی وفاقی حکومت ان پرغور بھی کرے گی۔ہم صوبوں سے الگ نہیں ہیں اور صوبے ہم سے الگ نہیں ہےں۔ ہمیں ایک قومی پالیسی کو اپنانا ہے۔اتوار …

ملتان ۔22 مارچ (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تمام صوبوں سے گزارش ہے کہ وہ الگ الگ فیصلے کرنے کی بجائے اپنی اپنی تجاویز نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے سامنے رکھیں جو اچھی اور قابل عمل تجاویز ہوںگی وفاقی حکومت ان پرغور بھی کرے گی۔ہم صوبوں سے الگ نہیں ہیں اور صوبے ہم سے الگ نہیں ہےں۔ ہمیں ایک قومی پالیسی کو اپنانا ہے۔اتوار کے روز کورونا وباءسے بچاﺅ کے حو الے سے ایک بیان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگ ابھی ذمہ داری کامظاہرہ نہیں کررہے اور صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ہم سب کو اس وقت ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے، حکومت جو ہدایات آپ کو دے رہی ہے وہ آپ کی بہتری کیلئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بہت سے یورپی ممالک جن کے پاس وسائل کی بہتات ہے عدم احتیاط کی وجہ سے وہاں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی۔اٹلی، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ کی صورت حال آپ کے سامنے ہے۔کل میری جرمنی کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بیس ہزار سے زیادہ لوگ ان کے ہاں اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔ہمیں اس وقت انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ ” سوشل ڈسٹنسنگ (معاشرتی فاصلہ) ” ہی اس وبا سے بچاو¿ کا واحد راستہ ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ تین دن کیلئے ازخود آئسولیش میں رہیں لیکن لوگوں نے اسے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔کل سکھر میں لوگ کوارنٹائین سینٹر سے احتجاج کرتے ہوئے باہر آ گئے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ابھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر اس صورت حال کا جائزہ لے کر اقدامات اٹھاتے رہیں گے۔بدقسمتی سے لوگ ابھی تک اس صورت حال کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، صوبائی و وفاقی حکومت آگاہ کر رہی ہے میڈیا آگاہ کر رہا ہے۔بعض اوقات پڑھے لکھے لوگوں کا بھی ردعمل اس طرح نہیں آ رہا جیسے آنا چاہیے۔ہمیں صوبوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی۔چین سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ ایک مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔چین نے اس سے نمٹنے کیلئے ٹارگٹڈ اپروچ اپنائی مگر یہ مربوط حکمت عملی عوام کے تعاون سے ہی پروان چڑھی۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ہاں عوامی تعاون کا فقدان دکھائی دے رہا ہے۔ہم لوگوں سے یہی اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس صورت حال کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ دنیا کی صورت حال ہمارے سامنے ہے ہم غفلت کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔یہ اس صدی کا سب سے بڑا وبائی چیلنج ہے۔ 12000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں 188 ممالک اس وبا سے متاثر ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ہم نے قومی سطح پر ایک پلیٹ فارم بنایا ہے جس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کر رہے ہیں اور صوبے اور تمام اہم ادارے اس میں شامل ہیں۔ہم. بین الاقوامی سطح پر بھی کاوشیں کر رہے ہیں سارک ممالک کے درمیان وڈیو لنک کے ذریعے اس سلسلے میں اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے حالات کے پیشِ نظر، انسانی ہمدردی کے تحت معاشی پابندیاں اٹھانے کی بات کی ہے۔کل میری جرمنی کے وزیر خارجہ سے اس حوالے سے بات ہوئی انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایران پر پابندیاں ہٹانے کے حوالے سے جی سیون وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں معاملہ اٹھائیں گے۔میں جی 7ممالک کے جتنے وزرائے خارجہ ہیں ان کو آج خط لکھ رہا ہوں جس میں پاکستان کی طرف سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ عالمی وبا کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرضوں کے تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اس وبا سے نمٹنے کیلئے استعمال کر سکیں۔دوحہ، ابوظہبی، روم اور دیگر بہت سی جگہوں پر ہمارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں ۔اس وقت دو لاکھ لوگ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس اتنی سہولیات نہیں ہیں کہ ہم اتنے لوگوں کو کوارنٹائین کر سکیں۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان علماءکونسل نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ عبادت ضرور کریں مگر احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔تمام ادارے اپنے اپنے طور پر مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔چین میں جب کرونا وبا پھیلی تو ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج اس وقت ہوبے اور وہان صوبوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباءکی موجودگی تھی۔ والدین کا پریشر تھا کہ انہیں پاکستان واپس لایا جائے ہم نے ان کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا۔آج چین میں مقیم وہی پاکستانی طلباءپاکستان کے اس فیصلے کی داد دے رہے ہیں اور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔