یو ای ٹی لٹریری سوسائٹی اور ہائیر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے یو ای ٹی وائس چانسلر کانفرنس روم میں بدلتی رت میں یونیورسٹیوں کا لسانیات کے لیے کردار کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا
یو ای ٹی لاہور میں لسانیات پر سیمینار

مزید خبریں
لاہور۔19مئی (اے پی پی):یو ای ٹی لٹریری سوسائٹی اور ہائیر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے یو ای ٹی وائس چانسلر کانفرنس روم میں بدلتی رت میں یونیورسٹیوں کا لسانیات کے لیے کردار کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔سیمینار کی صدارت وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر عمر چوہدری اور سیکرٹری بورڈ آف ریونیو شفقت اللہ مشتاق تھے۔ کلیدی خطاب پرنسپل اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کیا۔ترجمان یو ای ٹی کےمطابق سیمینار میں مختلف جامعات کے ماہرینِ لسانیات، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر شاہد فاروق، ڈاکٹر عبدالغفار، ڈاکٹر تنویر قاسم رانا اور ڈاکٹر شاہد (ایف سی کالج) شریک ہوئے جبکہ ہائیر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین پروفیسر نعیم مسعود اس تقریب کے آرگنائزر تھے۔مہمانانِ گرامی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد عاشق ڈوگر (ممبر سینڈیکیٹ یونیورسٹی آف جھنگ) اور سلیم احمد (عظیم گروپ آف پبلیکیشنز، اردو بازار) بھی شامل تھے۔اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ زبانیں محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی فکری شناخت ہوتی ہیں۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں لسانیات کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قومی اور علاقائی زبانوں کو ڈیجیٹل ٹولز، سافٹ ویئرز اور تحقیقی پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کر کے موثر طور پر محفوظ اور فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کو زبانوں کی ترویج، تحقیق اور ڈیجیٹلائزیشن میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عمر چوہدری نے کہا کہ زبانیں کبھی نہیں مرتیں بلکہ معاشروں کی بے توجہی انہیں کمزور کر دیتی ہے۔ ہر زبان اپنے اندر تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شعور کا سرمایہ رکھتی ہے۔ جامعات کو لسانی تنوع کے تحفظ کے لیے تحقیق، مکالمے اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔کلیدی مقرر پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی اور علاقائی زبانوں کی سرپرستی کرے۔ زبانوں کا تحفظ صرف ادبی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی بقا کا سوال ہے اور پاکستان کی لسانی شناخت ایک قیمتی ثقافتی سرمایہ ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا ناگزیر ہے۔سیکرٹری بورڈ آف ریونیو شفقت اللہ مشتاق نے کہا کہ زبان تہذیب کی محافظ ہوتی ہے اور قوموں کی یادداشت اپنے الفاظ میں محفوظ رہتی ہے۔ڈاکٹر تنویر قاسم رانا نے کہا کہ زبانیں تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتی ہیں اور فکری اساس کو مضبوط بناتی ہیں، لہذا جامعات کو انسانی علوم اور لسانیات کو ترجیح دینی چاہیے۔ڈاکٹر عبدالغفار نے کہا کہ لسانیات مختلف ثقافتوں کے درمیان فکری پل تعمیر کرتی ہے اور مادری زبان میں تعلیم تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔ڈاکٹر شاہد فاروق نے کہا کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل تہذیبی نظام ہے اور لسانی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔چیئرمین اکنامکس ڈیپارٹمنٹ ایل سی ڈبلیو ڈاکٹر افضل نے کہا کہ معیشت اور زبان کا گہرا تعلق ہے کیونکہ ترقی یافتہ اقوام اپنی زبانوں میں علم پیدا کرتی ہیں۔پروفیسر نعیم مسعود نے کہا کہ سیمینار کا مقصد جامعات میں لسانیات کے حوالے سے سنجیدہ علمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔اختتام پر مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جامعات کو قومی و علاقائی زبانوں کے فروغ، تحقیق اور ڈیجیٹل تحفظ کے لیے موثر حکمتِ عملی اپنانی چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تہذیبی اور لسانی شناخت سے جڑی رہیں۔سیمینار کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی اور مقررین میں یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔








