25 کروڑ آبادی کے لئے تعلیم ، ہنر مندی اور روز گار کو اہم ترجیح بنانا ہوگا، مصنوعی ذہانت کو ڈیٹا گورنس کیلئے استعمال کیا جائے، ماہرین کا پائیدار ترقی کا نفرنس میں اظہار خیال

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سالانہ پائیدار ترقی کا نفرنس کے تیسرے روز مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر پیداواری شعبہ ماحول دوست طریقوں کو اپنائے تو معیشت بھی پائیدا رسمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، جنوبی ایشیائی خطہ میں شدید ما حولیاتی دباؤ اور توانائی کے عدم توازن کی وجہ سے ہندوکش ہمالیہ میں ایس ڈی جی 7 کے حصول کیلئے آٹھ ملکی تعاون …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سالانہ پائیدار ترقی کا نفرنس کے تیسرے روز مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر پیداواری شعبہ ماحول دوست طریقوں کو اپنائے تو معیشت بھی پائیدا رسمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، جنوبی ایشیائی خطہ میں شدید ما حولیاتی دباؤ اور توانائی کے عدم توازن کی وجہ سے ہندوکش ہمالیہ میں ایس ڈی جی 7 کے حصول کیلئے آٹھ ملکی تعاون ناگزیر ہے، حکومت تعلیم بجٹ کو 4 فیصد کرنے اور سکول سے باہر 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے، پاکستان کو جی ڈی پی پر بنی ترقی کے ماڈل سے نکل کر ایسا نظام اپنانا ہو گا جو انسانی سرمایہ، قدرتی وسائل اور معاشرتی بہبود کو بھی ترقی کا حصہ سمجھے۔

جمعرات کو کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے ماحول دوست صنعت کاری کے فروغ سے متعلق علاقائی مکالمے میں کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار آصف سعید المانی نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی میں ماحول دوستی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے تا کہ نئی اور موجودہ صنعتیں ماحول دوست پیداوار کی طرف منتقل ہو سکیں۔ سٹیٹ بینک کے سینئر جوائنٹ ڈائر یکٹر فیصل شفات نے کہا کہ نجی شعبہ پائیدار اقتصادی سرگرمی کا بنیادی محرک ہے اس لئے اسے خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں۔ نیپال کے ساؤتی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پر اس گھر میں نے زور دیا کہ صنعتی پالیسیاں کا رہن کمی کے اہداف سے ہم آہنگ کی جائیں۔ آٹو موٹیو ایم ایف جی پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او انجینیر محمد عبد الجبار نے تجویز دی کہ ٹیکسونومی اور گرین انڈسٹریلائزیشن کی نگرانی وفاق براہ راست کرے۔

صوبیہ بیکر نے کہا کہ صنعتی پالیسی کو ماحولیات کے تناظر میں مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبد العلیم ، ایس جی ایس پاکستان کی جی ایچ جی لیڈ آڈیٹر کنول شہزادی نے ڈیٹا کے شفاف تبادلے پر زور دیا۔ گول میزا جلاس میں قانون سازوں، سفارت کاروں اور بینکاری ماہرین نے کہا کہ پاکستان کے کلائمیٹ فنانس آرسی پر کو فوری مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تا کہ مالیاتی نظام کو سبز اور لچکدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش کے سفیر فیاض مرشد قاضی اور قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے حکمرانی کی کمزوری، مالیاتی دباو اور پارلیمانی و مقامی سے پر ماحولیاتی مباحثے کے فقدان کو بڑی رکاو میں قرار دیا ۔ سٹیٹ بینک کے فیصل شفات اور بیٹنگ آف پنجاب کے چیف رسک افسر ارسلان محمد اقبال نے ایس ایم ایز کیلئے گرین فنانسنگ اور رسک شیئر نگ سہولتوں میں اضافے پر زور دیا۔ ایس ڈی پی آئی کے خالد ولید نے ما حولیاتی مالیاتی انصاف کا 10 نکاتی فریم ورک پیش کیا ۔

دوسرے مباحثہ میں ماہرین نے زور دیا کہ ہندوکش ہمالیہ میں ایس ڈی جی 7 کے حصول کیلئے آٹھ ملکی تعاون ناگزیر ہے کیونکہ خطہ شدید ماحولیاتی دباؤ اور توانائی کے عدم توازن سے دو چار ہے۔ ہندوکش ہمالیہ میں پائیدار ترقی ہدف 7 کے حصول کے حوالے سے مباحثہ میں یو این ایسکیپ ، آئی سی آئی موڈ اور پی پی آئی بی کے نمائندوں نے خطے کی توانائی صلاحیت اور چیلنجز پر جامع گفتگو کی۔ آئی سی آئی موڈ کی ڈپٹی ڈائر یکٹر جنرل ایزا بیلا کر یمل نے کہا کہ ہندوکش جمالیہ میں پن بجلی ،شمسی اور ہوا کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے علاقائی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جامع توانائی پالیسی تحقیق و ترقی، ڈ کیٹلا ئزیشن، پانی و توانائی کے مربوط انتظام اور خطے کے مابین اعتماد سازی کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ ریاض فتیانہ نے خطے کی بے پناہ مگر غیر استعمال شدہ صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ توانائی تجارت اور تعاون ہی مشتر کہ چیلنجز کامل ہے۔

شرح نمو کی بہتری کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے اکانومسٹ ظفر الحسن نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ گروتھ کپت، قرضوں اور ترسیلات پر چلتی ہے جس کی وجہ سے انسانی سرمایہ اور قدرتی وسائل نظر انداز ہو جاتے ہیں اور ملک بار بار معاشی بحران اور آئی ایم ایف پروگراموں میں پھنس جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی کے لئے تعلیم ، ہنر مندی اور روزگار کو سب سے اہم ترجیح بنانا ہوگا۔ یو این ای پی کے ڈاکٹر پشم کمار نے کہا کہ جی ڈی پی ترقی کا معیار نہیں پاکستان کو اب قدرتی و انسانی سرمایہ کوبھی ترقی کا پیمانہ بنانا ہوگا۔ اس موقع پر پا انگ کمیشن کے سابق افسر ڈاکٹر محمد خورشید اور PIDE سے محمد فاروق نے زور دیا کہ پاکستان کو گرین ، بلیو اور براؤن اکانومی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں ماہرین اور پیلسٹس نے زور دیا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شرح خواندگی بہتر بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے الگ اور مخصوص بجٹ لائن قائم کی جائے۔

ملالا فنڈ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نشاط ریاض نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی کمی اور ریاست کی کمز ور ترجیحات لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ وفاقی وزارت تعلیم کی پارلیمانی سیکرٹری فراح ناز نے کہا کہ حکومت تعلیم بجٹ کو 4 فیصد کرنے اور سکول سے باہر 2 کروڑ 60 لاکھ ابچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایجو کیشن سپیشلسٹ ملیحہ حیدر نے ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور اساتذہ کی تربیت پر زور دیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ڈی جی ڈاکٹر شاہد سر دیا نے کہا کہ G-SDG کے مطابق تعلیم کا بجٹ 6 فیصد جی ڈی پی تک ہونا چاہئے۔ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے موضوع پر گول میز اجلاس میں پی ٹی اے کے ڈی جی ڈاکٹر مکرم خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت 30 فیصد ملازمتوں کو متاثر کر چکی ہے اور مستقبل میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ترکی کے ماہر معاشیات پروفیسر طلحہ نے کہا مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلوں کو زیاد و منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔

جاز کے گروپ چیف سید ظاہر مہدی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہات نے ڈیٹا گورننس اور محفوظ انفراسٹر کھر کیلئے استعمال کیا جائے۔ بین الاقوامی آئی سی ٹی کنسلٹنٹ پرویز اختر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں، حال ہے اور پاکستان کو تیزی سے اس کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پالیسی ماہر احمد قادر نے خبردار کیا کہ جلد بازی پربینی ریگولیشن ترقی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لئے پرائیویسی اور ڈیٹا مینجمنٹ پر بنی ہدفی قوانین بنانے ہوں گے۔ پالیسی ایکسپرٹ بلال انور نے اوپن اسپیکٹرم ٹیکس اصلاحات اور مارکیٹ لبر لائزیشن کو ڈیجیٹل ترقی کے اہم عناصر قرار دیا۔ بریگیڈ میز (ر) محمد یاسین نے کہا کہ کنیکٹیو بینی آج کی معیشت ، حکمرانی اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے اور پاکستان کو ڈیجیٹل مستقبل میں مؤثر کردار کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔