اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جو آج بھی گہری افسردگی اور تشویش کا باعث ہے ،بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت میں نقش ہے، مسجد کی شہادت عدم برداشت، مذہبی تعصب اور انتہاپسندی کی ایک افسوسناک مثال ہے جو نہ صرف بھارتی مسلمانوں بلکہ عالمی برادری …
6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت ایسا سانحہ ہے جو آج بھی گہری افسردگی اور تشویش کا باعث ہے ، ترجمان وزارت خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جو آج بھی گہری افسردگی اور تشویش کا باعث ہے ،بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت میں نقش ہے، مسجد کی شہادت عدم برداشت، مذہبی تعصب اور انتہاپسندی کی ایک افسوسناک مثال ہے جو نہ صرف بھارتی مسلمانوں بلکہ عالمی برادری کے ہر اُس فرد کے لئے تکلیف دہ ہے جو مذہبی آزادی اور مساوات پر یقین رکھتا ہے،مذہبی ورثے اور مقدس مقامات کا تحفظ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے تمام واقعات کا شفافیت، جوابدہی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق جائزہ لیا جانا چاہئے۔
جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بابری مسجد کی شہادت کی برسی پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ کسی بھی مذہبی مقام کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس سے مختلف برادریوں کے درمیان باہمی احترام اور احساسِ تحفظ مجروح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں رہنے والےمسلمانوں میں محرومی، عدم تحفظ اور جذباتی تکلیف کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرپرستی سے تقویت پانے والی ہندو فاشسٹ تنظیمیں اب بھارت میں رہنے والے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کے مطالبات تک کر رہی ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کا حامی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی رائے عامہ پر زور دیا کہ مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت تسلیم کی جائے اور ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے مکمل تحفظ کے لئے پُرعزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کی برسی پاکستان کے لئے صرف غم کا اظہار نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور مقدس ورثے کے احترام جیسے عالمی اصولوں کی تجدید کا موقع بھی ہے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے اور تمام مذہبی و ثقافتی برادریوں کے لئے برابری کے شہری حقوق اور باہمی احترام کو یقینی بنائے۔







