او آئی سی۔آئی پی ایچ آر سی کی ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے بین الاقوامی مقابلے کے شرانگیز منصوبوں کی مذمت

او آئی سی۔آئی پی ایچ آر سی کی ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے بین الاقوامی مقابلے کے شرانگیز منصوبوں کی مذمت ہالینڈ کی حکومت گستاخانہ اقدام کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات اٹھائے، اگر اس شرانگیز مقابلے کا انعقاد کرنے دیا گیا تو اس سے عدم برداشت اور منافرت کے کلچر کو ہوا ملے گی، او آئی سی کمیشن اسلام آباد ۔ 28 …

او آئی سی۔آئی پی ایچ آر سی کی ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے بین الاقوامی مقابلے کے شرانگیز منصوبوں کی مذمت
ہالینڈ کی حکومت گستاخانہ اقدام کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات اٹھائے، اگر اس شرانگیز مقابلے کا انعقاد کرنے دیا گیا تو اس سے عدم برداشت اور منافرت کے کلچر کو ہوا ملے گی، او آئی سی کمیشن

اسلام آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم خود مختار مستقل انسانی حقوق کمیشن (او آئی سی۔آئی پی ایچ آر سی) نے ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز کی طرف سے رواں سال کے آخر میں گستاخانہ خاکوں کے بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کے شرانگیز منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس گستاخانہ اقدام کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جس سے دنیا بھر کے ایک ارب 60 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ او آئی سی کمیشن کی طرف سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر اس شرانگیز مقابلے کا انعقاد کرنے دیا گیا تو اس سے عدم برداشت اور منافرت کے کلچر کو ہوا ملے گی، اس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے مابین کشمکش اور تقسیم کی فضاءجنم لے گی جو تشدد اور تعصبات کا باعث بنے گی اور اس سے کثیر الجہتی اور متنوع نظام کے اعلیٰ تصورات کو دھچکا لگے گا۔ بیان میں ہالینڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ایونٹ کے انعقاد کو روکنے کیلئے فوری اقدام کرے تاکہ اس کی خود اپنی اور وسیع تر بین الاقوامی مسلم آبادی کی مذہبی اور ثقافتی حساسیت کا تحفظ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ہم آہنگی اور برداشت و کثیر الجہتی تصورات کی بھی پاسداری ہو جو ڈچ معاشرے کا طرہ¿ امتیاز رہے ہیں۔ مذہبی منافرت اور امتیاز کو ابھارنے کی ایسی مربوط اور بار بار کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کمیشن نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس قسم کی گستاخانہ اشتعال انگیزیوں پر ردعمل کے حوالہ سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہیں جن کا مقصد اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں نسلی/مذہبی منافرت، امتیاز، تعصب اور تشدد کو ابھارنا ہے۔

مزید خبریں