اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ قومی اداروں کو ایک ٹریلین کا نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے، سینیٹر مشاہد اﷲ 1990ءمیں پی آئی اے میں لوڈر کے طور پر بھرتی ہوئے، ان جیسے لوگ سیاست پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، ان کا ہرنیا کا آپریشن 30 لاکھ روپے کا ہوا جو پی …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ قومی اداروں کو ایک ٹریلین کا نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے، سینیٹر مشاہد اﷲ 1990ءمیں پی آئی اے میں لوڈر کے طور پر بھرتی ہوئے، ان جیسے لوگ سیاست پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، ان کا ہرنیا کا آپریشن 30 لاکھ روپے کا ہوا جو پی آئی اے نے برداشت کیا، پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے اس لئے ووٹ نہیں دیئے کہ وہ چوروں سے صلح کرتے پھرے، ایسے لوگوں کو بے نقاب کریں گے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز، سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر محسن عزیز، سینیٹر فدا محمد خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کو احتساب کے نام پر ووٹ دیئے، قومی اداروں پی آئی اے کو پچھلے پانچ سالوں میں 356 ارب روپے کا خسارہ ہے، سٹیل ملز 200 ارب جبکہ پی ٹی وی کو 7.5 ارب روپے دیئے جا رہے ہیں اور ریڈیو پاکستان کو 5 ارب 65 کروڑ روپے سالانہ دیئے جا رہے ہیں، قومی اداروں کو ایک ہزار ٹریلین کا نقصان کیوں ہے، ہمیں اس نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ریلوے میں 78 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سینیٹر مشاہد اﷲ 1990ءمیں پی آئی اے میں لوڈر بھرتی ہوئے، اس کے بعد وہ سینیٹر بنے، ان کو وفاقی کابینہ سے فوج کے خلاف بیان دینے پر نکالا گیا، مشاہد اﷲ نے اپنے بھائی مطیع اﷲ اور راشد اﷲ خان کو نیویارک میں آپریشن ہیڈ لگایا، یہ نیویارک میں پی آئی اے کو بند کرکے واپس آئے، ان کا اس حوالہ سے کوئی تجربہ نہ تھا، اس کے بعد ساجد اﷲ خان کو نیویارک میں اسسٹنٹ منیجر لگایا گیا اور وہ بعد میں ان کو سٹیشن ہیڈ لگا دیا گیا۔ یہ پانچ سال سے ابھی تک باہر ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مطیع اﷲ ان کے خالہ کے بیٹے ہیں اور ندیم احمد پاشا ان کے سالے ہیں، ان کو پی آئی اے بورڈ کا اجلاس بلائے بغیر ترقی دی گئی اور خود سینیٹر مشاہد اﷲ خان سینٹ کی ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ سینٹ کو نہیں چلنے دیں گے جو اپوزیشن کی اخلاقی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔








