وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کا سینٹر فارگلوبل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیراہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی آبی جارحیت کا نوٹس لے اور عالمی بینک اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ پیر کو سیyنٹر فارگلوبل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ”پانی اور برصغیر میں مستقبل میں جنگ اور امن“ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی آبی جارحیت کا نوٹس لے اور عالمی بینک اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ پیر کو سیyنٹر فارگلوبل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ”پانی اور برصغیر میں مستقبل میں جنگ اور امن“ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بھارت اور پاکستان میں پانی کے تنازعات کا آغاز 1948ءسے ہو گیا تھا اور دونوں ممالک دو جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اگرچہ 1960ءمیں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ بہت عرصہ تک کامیابی سے چلتا رہا مگر بھارت نے دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کا صنعتی استعمال کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ بھارت صرف اسی صورت اس پانی کا استعمال بجلی پیدا کرنے کے لیئے کر سکتا تھا اگر اس سے پاکستان کو پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ بھارت یکطرفہ طور پہ سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا اس کو ختم کرنے کے لیے باہمی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ بھارت دریائے جہلم اور چناب کے پانی پر ڈیمز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کے عالمی برادری بھارت کی آبی جارحیت کا نوٹس لے اور عالمی بینک اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔

مزید خبریں