اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، قوم کو اپنے نوجوانوں سے بڑی توقعات وابستہ ہیں، قوم کی توقعات پر پورا اترنے کےلئے نوجوانوں کو اپنی تمام تر توانیاں حصول تعلیم پر مرکوز کرنا ہوں گی، نوجوانوں پر مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، …
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی بلوچستان ریذیڈینشنل کالج لورا لائی کے اساتذہ اور طلباءکے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، قوم کو اپنے نوجوانوں سے بڑی توقعات وابستہ ہیں، قوم کی توقعات پر پورا اترنے کےلئے نوجوانوں کو اپنی تمام تر توانیاں حصول تعلیم پر مرکوز کرنا ہوں گی، نوجوانوں پر مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ محنت اور لگن سے خود کو اس ذمہ داری سے عہدہ برآں ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بلوچستان ریذیڈینشنل کالج لورا لائی کے اساتذہ اور طلباءکے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور اسے ملک کے دوسر ے صوبوں کے برابر لانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان میں بہتری آئے گی اور بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے اور روز گار کے وہ مواقع ملیں گے جو دیگر صوبوں کے نوجوانوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے بلوچستان میں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے اور بڑی تعداد میں پروفیسر ڈاکٹر، طلباءاور عالم دین شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بےروزگاری اور غربت کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کو اچھے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملتے، موجودہ حکومت بلوچستان میں نئے تعلیمی ادارے خصوصاً ٹیکنیکل تعلیم ادارے کھولنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے ریذیڈینشنل کالج لورالائی کے تعلیمی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریذیڈینشنل کالج لورالائی ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے اور اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءکی ایک بڑی تعداد ملک بھر میں مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے طلباءکو اپنے والدین کی توقعات پر پورا اترنے کےلئے سخت محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں زراعت تباہ حال ہے، کوئی بڑی صنعت بھی موجود نہیں اور کاروبار بھی نہ ہونے کے برابر ہے تاہم اس کے باوجود آپ کے والدین آپ کےلئے قربانی دے رہے ہیں اس لئے آپ پر لازم ہے کہ وہ جس مقصد کےلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں آپ اس کو پورا کر کے دکھائیں۔ ڈپٹی سپیکر نے طلباءکے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کی بڑی وجہ کرپشن اور بدانتظامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں 250 سو سے زائد ٹیوب ویل نصب کئے گئے جو بند پڑے ہیں اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ بدانتظامی اور کمیشن مافیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت کے خاتمہ کےلئے موجودہ حکومت ڈیم بنانے اور ان بند ٹیوب ویلز چلانے کےلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معشیت کو درپیش بحران کی بڑی وجہ بیرونی قرضے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک 30 ہزار ارب روپے کا مقروض ہے جن میں سے 24 ہزار ارب گزشتہ 10 سالوں میں لئے گئے ہیں جو کرپشن اور بدانتظامی کی نذر ہو گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موٹروے میں 22 سو آسامیاں آئیں تو انہوں نے یہ سب کی سب بلوچستان کو دےدیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ 5 برسوں میں آپ کو بلوچستان کے حالات میں واضح فرق نظر آئے گا۔








