اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 26 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ پیر کو کابینہ کے خصوصی اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس 9 گھنٹے جاری رہا۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین …
وفاقی وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین کی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے متعلق بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 26 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ پیر کو کابینہ کے خصوصی اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس 9 گھنٹے جاری رہا۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک نہایت مشکل وقت میں حکومت سنبھالی ہے، آج ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پاکستان آج خطہ کے دوسرے ممالک کے مقابلہ میں بھی بہت سارے شعبوں میں پیچھے رہ گیا ہے، ایسے حالات میں کچھ نہ کرنا یا معمول کے مطابق کارروائی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں غریب کی حالتِ زار کی بہتری کی بات اکثر ہوتی رہی ہے لیکن سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں یہ فرق ہے کہ ہم نے ملک اور عوام کی حالت کی بہتری کی بات محض ووٹ حاصل کرنے کےلئے نہیں کی بلکہ ہم دل سے اس پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے قیام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیت ٹھیک ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو کوئی چیز ناممکن نہیں۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ آج ملک میں 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، 43 فیصد سٹنٹڈ گروتھ ہے، ان حالات میں ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم موجودہ حالات کو ٹھیک کریں۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وزارتوں کی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور ہر وزارت کومزید ٹارگٹ دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سو دنوں میں نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ انہوں نے وزراءکو ہدایت کی کہ وزارتوں کی جانب سے ان سو دنوں میں جو اہداف مقر ر کئے گئے ہیں ان کے حصول کےلئے لائحہ عمل تشکیل دے کر ان کو یقینی بنایا جائے۔








