اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ورثے میں بدترین معاشی صورتحال چھوڑی ہے‘ پارلیمنٹ کی رکنیت کو کرپشن چھپانے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے‘ اس ایوان کو اتفاق رائے سے یہ قرارداد منظور کرنی چاہیے کہ جس نے بھی اس قوم کا ایک روپیہ کھایا ہے اس کو معافی نہیں ملے …
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ورثے میں بدترین معاشی صورتحال چھوڑی ہے‘ پارلیمنٹ کی رکنیت کو کرپشن چھپانے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے‘ اس ایوان کو اتفاق رائے سے یہ قرارداد منظور کرنی چاہیے کہ جس نے بھی اس قوم کا ایک روپیہ کھایا ہے اس کو معافی نہیں ملے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ حکومت پر تنقید سے قبل شاہد خاقان عباسی کو یہ سوچنا چایے کہ وہ ورثے میں ہمارے لئے کیا چھوڑ کرگئے ہیں ساڑھے 18 ارب ڈالر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ‘ ساڑھے 12 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہمارے ذمہ چھوڑ کر گئے۔ بدترین معاشی صورتحال ہمیں سابق حکومت سے ورثے میں ملی۔ 1980ءسے شروع کریں اور بتائیں کہ اس وقت کس کے کیا اثاثے تھے اور اب کتنے ہیں۔ اثاثوں اور ٹیکسوں کی تفصیلات 1980ءسے مل سکتی ہیں۔ بعض سابق وزراءاعظم کے ٹیکس ریٹرنز کی ہمارے پاس تفصیلات موجود ہیں۔ سابق وزیراعظم نے 1980ءمیں صرف 534 روپے ٹیکس دیا۔ بہتر ہے کہ اس معاملے پر ایوان آگے بڑھے۔ یہ ایوان ہم سب کے لئے مقدس ہے۔ تاہم پارلیمنٹ کی رکنیت کو کرپشن چھپانے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ایک تہائی آئین میں ترمیم کی گئی۔ اس وقت نیب کا قانون کیوں تبدیل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کیونکہ انہیں اس بات کا اندیشہ ہی نہیں تھا کہ ان کے گریبان پر بھی ہاتھ پڑ سکتا ہے۔ ہمیں مل کر قرارداد منظور کرنی چاہیے کہ جس نے بھی اس قوم کا ایک روپیہ کھایا اس کو معافی نہیں ملے گی۔








